اسرائیل کی سیاسی و سیکیورٹی کابینہ نے جمعہ کی صبح غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا، جس سے چند گھنٹے قبل وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل پورے غزہ پٹی پر فوجی کنٹرول قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق آئی ڈی ایف انسانی امداد کی فراہمی کے ساتھ جنگی علاقوں سے باہر کے شہریوں کو سہولت دے گی۔

اطلاعات کے مطابق منصوبے میں فلسطینی شہریوں کو غزہ شہر سے نکال کر وہاں زمینی کارروائی شامل ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل وہاں مستقل حکومت نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک سیکیورٹی پَیریمیٹر قائم کرنا چاہتا ہے اور بعد میں یہ علاقہ عرب فورسز کے حوالے کرے گا۔

اس منصوبے کو اسرائیلی کابینہ کے بیشتر ارکان کی حمایت حاصل ہے، جو سمجھتے ہیں کہ متبادل تجاویز حماس کی شکست یا یرغمالیوں کی رہائی کا ہدف حاصل نہیں کر سکتیں۔ تاہم حتمی منظوری کابینہ کے مکمل اجلاس میں دی جائے گی جو ممکنہ طور پر اتوار کو ہوگا۔

یہ اقدام 2005 میں اسرائیل کے غزہ سے انخلا کے فیصلے کو عملاً پلٹ دے گا، جس کے بعد حماس نے 2006 کے انتخابات میں اقتدار سنبھالا۔ حماس نے نیتن یاہو کے اعلان کو مذاکراتی عمل پر کھلا حملہ قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی نئی حکومتی فورس کو قابض تصور کیا جائے گا۔

اردن اور دیگر عرب ممالک کا کہنا ہے کہ غزہ کی سیکیورٹی صرف جائز فلسطینی اداروں کے ذریعے ہی ہونی چاہیے۔ ادھر اسرائیل میں اس ممکنہ فوجی توسیع پر تشویش پائی جاتی ہے اور مظاہرے بھی ہو رہے ہیں جن میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس وقت تقریباً 50 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا یقین ہے۔ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جولائی میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ حماس کا کہنا ہے کہ انسانی امداد میں اضافہ مذاکرات کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے، جب کہ اسرائیل الزام لگاتا ہے کہ حماس امداد اپنے جنگجوؤں تک پہنچاتی ہے۔

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے تقریباً 20 لاکھ بے گھر افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق وہ غزہ کے 75 فیصد حصے پر قابض ہے، تاہم عام شہری بار بار بے گھر ہونے اور بدترین حالات کا شکار ہیں۔