اسرائیلی فوجی ادارے سی او جی اے ٹی نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل مرحلہ وار اور محدود پیمانے پر مقامی تاجروں کے ذریعے غزہ میں امدادی اشیاء کی فراہمی کی اجازت دے گا۔ ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد غزہ میں امداد کے حجم میں اضافہ کرنا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر انحصار کم کرنا بھی اس پالیسی کا حصہ ہے۔

سی او جی اے ٹی نے کہا کہ اس نئے نظام کے تحت امداد کی فراہمی زیادہ موثر بنائی جائے گی تاکہ مقامی سطح پر ضروری اشیاء کی دستیابی کو ممکن بنایا جا سکے۔

ادھر حماس نے اتوار کے روز کہا کہ اگر اسرائیل بعض شرائط مان لے تو وہ غزہ میں یرغمال افراد تک ریڈ کراس کے ذریعے امداد پہنچانے کی اجازت دینے پر تیار ہے۔ اس بیان سے قبل حماس کی جانب سے ایک یرغمالی کی کمزور حالت میں ویڈیو جاری کی گئی تھی جس پر مغربی ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

اقوامِ متحدہ اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ تقریباً 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ ضروری ہے — یہ وہی تعداد ہے جو جنگ سے قبل اسرائیل اجازت دیتا تھا۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 60,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی 50 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا خیال ہے۔

تاحال حماس نے کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم کو یرغمالیوں تک رسائی نہیں دی، اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ان کی حالتِ زار سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔