تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکا کی تجارتی مذاکرات میں پیش رفت سے پیدا ہونے والی امیدیں اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ کمی بنی۔

عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کے فیوچر 24 سینٹ یعنی 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 68.75 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے فیوچر 25 سینٹ یا 0.4 فیصد بڑھ کر فی بیرل 65.50 ڈالر تک پہنچ گئے۔

بدھ کو دونوں بینچ مارک قیمتوں میں معمولی ردوبدل ہوا کیونکہ منڈیاں امریکی اور یورپی یونین کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کے ساتھ ٹیرف معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی گئی اور ٹوکیو کو نئی محصولات سے استثنیٰ دیا گیا، بدلے میں امریکا کو 550 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری اور قرضوں کا پیکج ملے گا۔

نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کِکواکا نے کہا کہ “خریداری کا رجحان اس امید کے باعث بڑھا کہ امریکا کے ساتھ ٹیرف مذاکرات میں پیش رفت سے بدترین صورتحال سے بچا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات اور روس و یوکرین کے درمیان امن بات چیت میں غیر یقینی صورتحال قیمتوں میں مزید اضافے کو محدود کر رہی ہے، اور توقع ہے کہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں 60 سے 70 ڈالر کے درمیان محدود رہیں گی۔

ادھر امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر 3.2 ملین بیرل کمی کے بعد 419 ملین بیرل پر آگئے، جو ماہرین کی 1.6 ملین بیرل کی کمی کی توقع سے کہیں زیادہ ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان بدھ کو استنبول میں امن مذاکرات ہوئے جن میں قیدیوں کے تبادلے پر بات ہوئی، تاہم جنگ بندی کے معاملات پر دونوں فریقوں میں اب بھی اختلافات باقی ہیں۔ اس کے علاوہ روس کے بلیک سی پورٹس پر نئی ضوابط کے باعث غیر ملکی آئل ٹینکروں پر وقتی پابندی لگا دی گئی، جس سے برآمدات مؤثر طور پر رک گئیں۔

توانائی کے امریکی وزیر نے کہا کہ واشنگٹن روسی تیل پر مزید پابندیوں پر غور کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین نے روس کے خلاف 18واں پابندیوں کا پیکج منظور کیا ہے، جس میں روسی تیل کی قیمتوں کی حد مزید کم کر دی گئی۔