خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو ابتدائی کاروبار کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجوہات دنیا کے بڑے تیل درآمد کنندہ ممالک سے توقع سے بہتر معاشی اعداد و شمار اور تجارتی کشیدگی میں کمی کے اشارے قرار دیے جا رہے ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 27 سینٹ یا 0.39 فیصد اضافے سے 68.79 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 31 سینٹ یا 0.47 فیصد اضافے سے 66.69 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔
دونوں بینچ مارک تیل قیمتیں گزشتہ سیشن میں 0.2 فیصد سے زیادہ گرگئی تھیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر 3.9 ملین بیرل کم ہوکر 422.2 ملین بیرل رہ گئے، جو کہ 552,000 بیرل کی متوقع کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کمی ریفائنری کی زیادہ سرگرمی، محدود رسد اور طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
ریفائننگ شعبے سے وابستہ سازگار منافع کی صورتحال سے کچھ حد تک قیمتوں کو سہارا مل رہا ہے۔
اسٹراٹاس ایڈوائزرز کے صدر جان پیسی نے کہا کہ تمام خطوں میں پروڈکٹ اسپریڈز (ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں فرق) نسبتاً وسیع ہیں۔
تاہم پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ اضافہ قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کا باعث بنا۔ بدھ کو جاری کردہ امریکی مرکزی بینک کی تازہ ترین اقتصادی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
چین کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ دوسری سہ ماہی میں معاشی نمو سست ہوئی تاہم اتنی نہیں جتنی پہلے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ اس کی ایک وجہ امریکی محصولات سے بچنے کے لیے قبل از وقت درآمدات بھی بنی جس سے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ ملک کی معیشت سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔