پاکستان

کابینہ کمیٹی نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کو ایس او ای ایکٹ اور وزارت خزانہ کو رپورٹنگ سے مکمل استثنیٰ دیدیا

  • فیصلہ ان اداروں کی حساس نوعیت اور قومی سلامتی سے جڑے امور کے پیش نظر کیا گیا
شائع July 16, 2025 اپ ڈیٹ July 16, 2025 08:29am

کابینہ کی اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (سی سی او ایس او ایز) پر قائم کمیٹی نے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کی کمپنیوں کو وزارت خزانہ کی مربوط رپورٹنگ کی شرائط سے خارج کرتے ہوئے انہیں سرکاری تجارتی اداروں (ایس او ایز) سے متعلق قانون اور پالیسی 2023 سے مکمل استثنیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان اداروں کی حساس نوعیت اور قومی سلامتی سے جڑے امور کے پیش نظر کیا گیا۔

یہ فیصلہ منگل کے روز وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقدہ کمیٹی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی سمیت مختلف وزارتوں، ڈویژنز اور متعلقہ اداروں کے سیکریٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایس پی ڈی کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر غور کیا گیا، جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ایس پی ڈی سے منسلک اداروں کو وزارت خزانہ کی رپورٹنگ ضروریات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ کمیٹی نے یہ تجویز منظور کرتے ہوئے ان اداروں کو ایس او ایز ایکٹ اور پالیسی 2023 سے مکمل استثنیٰ دے دیا۔

اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی و سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے بورڈز میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی تجویز بھی منظور کی گئی۔ ایک جامع شارٹ لسٹنگ کے بعد دونوں اداروں کے لیے چھ چھ آزاد ڈائریکٹرز کی منظوری دی گئی۔

پی ٹی وی سی کے لیے منظور شدہ ناموں میں اشتیاق بیگ، یاسر ایس قریشی، ڈاکٹر اصغر ندیم سید، تسنیم رحمان، لیلیٰ زبیری اور خالد محمود خان شامل ہیں۔پی بی سی کے لیے صدیقہ سلطان، ناصرہ عظیم خان، جہانگیر خان، سعدیہ خان، خان بی بی اور ندیم حیدر کیانی کو بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران پی بی سی کی کارکردگی اس کے بزنس پلان کے مقابلے میں ملی چلی رہی۔ اگرچہ محصولات میں نسبتاً بہتری دیکھی گئی، لیکن اہداف کے مقابلے میں نمایاں کمی برقرار ہے۔ بالخصوص ایئر ٹائم اشتہارات جیسے اہم ذرائع آمدن میں وصولیوں کی رفتار مطلوبہ سطح سے کم رہی۔

وزارت نے بتایا کہ اشتہاری فروخت، اثاثہ جات کے کرائے پر دینے اور دیگر اقدامات کے باوجود واجبات کی وصولی اور نقد آمدن میں تاخیر موجود ہے، جو ادارے کی مالی پائیداری کے لیے تشویشناک ہے۔

اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی تجویز پر ایگرو فوڈ پروسیسنگ فیسلٹیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل بھی منظور کی گئی۔ بورڈ کے لیے چار آزاد ڈائریکٹرز — حسنین نواز خان، شاہد محمود ساہو، احسن مصطفیٰ باجوہ اور غلام جعفر جونیجو — کی منظوری دی گئی، جب کہ تین ممبران بطور ایکس آفیشیو شامل ہوں گے۔ حسنین نواز خان کو بورڈ کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے وزارت بحری امور کی جانب سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے لیے پیش کردہ خریداری پالیسی کی اصولی منظوری بھی دی، اور مزید بہتری کی ہدایات جاری کیں۔ اس بات کو سراہا گیا کہ پی این ایس سی پہلا سرکاری ادارہ ہے جس نے اپنی نوعیت کی جامع خریداری پالیسی تشکیل دی ہے۔

علاوہ ازیں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تجویز پر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے نائب صدر کا استعفیٰ بھی منظور کیا گیا، جو انہوں نے 25 مارچ 2025 کو ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دیا تھا۔

کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی کی تجویز پر نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نئی تقرریوں کی بھی منظوری دی۔

اجلاس کے دوران کچھ سرکاری اداروں کی جانب سے مالیاتی آڈٹ مکمل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق اکثر اداروں میں آڈٹ کمیٹیاں غیر فعال یا رسمی حیثیت رکھتی ہیں اور مالیاتی دیانتداری کی نگرانی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

کمیٹی نے ایسے تمام اداروں کو فوری طور پر آڈٹ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی اور ایس ای سی پی کو ہدایت کی کہ ان معاملات کی جانچ کر کے اپنی سفارشاتسی سی او ایس او ایز کو پیش کرے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025