ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بلند ٹیکسوں کو ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس حکام کے روایتی اور غیر دوستانہ نظام سے ٹیکس دہندگان پر بوجھ پڑتا ہے اور یہ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اے ڈی بی نے اپنی تازہ رپورٹ ”پاکستان کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم“ میں حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل شعبے پر لاگو وفاقی و صوبائی ٹیکسوں کو خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگ بنائے، ٹیکس کی شرحوں کو کم از کم 10 سال کے لیے مستحکم کرے اور مستقبل میں اسپیکٹرم کی قیمتوں کو امریکی ڈالر سے منسلک نہ کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو واضح سمت دی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی میں مالی اور ثقافتی رکاوٹیں پہلے سے ہی موجود ہیں، ایسے میں ڈیجیٹل سروسز پر بلند قیمت اور ٹیکسز ڈیجیٹل خلیج کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کا جی ڈی پی میں براہ راست حصہ 1.5 فیصد ہے، جو کہ جدت، ترقی اور سماجی بہبود میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دیگر معاشی شعبوں پر بالواسطہ اثر بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم، پاکستان میں نئی کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں تاخیر دیکھنے کو ملی ہے، جیسا کہ 3 جی کے نفاذ کے وقت ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپیکٹرم کی مختص اور قیمتوں کا نظام غیر مؤثر اور غیر مسابقتی ہے جس کی وجہ سے موبائل سروسز کے معیار اور رسائی پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
پاکستان میں موبائل آپریٹرز دنیا کے کم ترین اوسط ریونیو فی صارف (اے آر پی یو) پر کام کر رہے ہیں اور بلند ٹیکس، 4 جی اسمارٹ فونز کے کم استعمال اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے 5 جی کے نفاذ میں دلچسپی لینا مشکل ہو چکا ہے۔ 2021 سے اب تک تین حکومتیں 5 جی اسپیکٹرم نیلامی کے اعلانات کر چکی ہیں لیکن عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مزید برآں، بجلی کی کمی، انٹرنیٹ بندشیں، اور 19.5 فیصد سیلز ٹیکس جیسے عوامل ڈیجیٹل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 80 فیصد آبادی کو موبائل انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے لیکن باقی لوگ جغرافیائی مشکلات کے باعث محروم ہیں۔
صوبوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے فائبر براڈبینڈ کی سبسکرپشن کے ذریعے ڈیجیٹل سہولیات کی طلب پیدا کریں تاکہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے کاروبار و گھریلو صارفین کے لیے نیٹ ورک پھیلائیں۔
رپورٹ میں مقامی سطح پر اسمارٹ فونز کی تیاری کو فروغ دینے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے مؤثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک بنانے، اور ”اوپن ایکسیس“ نیٹ ورک کو یقینی بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کو مربوط اور بااثر پالیسی نمائندگی کی ضرورت ہے تاکہ وہ تحقیق، مکالمے اور شفاف پالیسی سازی میں کردار ادا کر سکے۔ موجودہ کاروباری ماحول کی مشکلات نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور شعبے کی آمدنی کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر بینک نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایک پیش گوئی پر مبنی اور حوصلہ افزا پالیسی فریم ورک بنائے جو نجی سرمایہ کاری کو راغب کرے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے، جو مجموعی قومی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025