ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی حالیہ رپورٹ “غیر رسمی اور مشکل سے ٹیکس وصول کیے جانے والے شعبوں پر ٹیکس — ایک پالیسی رہنما پاکستان کی دیرینہ مشکلات پر روشنی ڈالتی ہے جو مؤثر ٹیکس اصلاحات کے نفاذ میں درپیش ہیں۔ ٹیکس بیس کو بامقصد طور پر وسعت دینے اور محاصل کی وصولی کو بہتر بنانے کے لیے برسوں پر محیط کوششوں کے باوجود، ملک ان دونوں محاذوں پر مستقل طور پر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

رپورٹ مزید اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو طویل عرصے سے درپیش بنیادی ساختی مسائل کون سے ہیں: محدود اور غیر منصفانہ ٹیکس بیس، پیچیدہ اور بوجھل ٹیکس تعمیل کا نظام اور ایک وسیع غیر رسمی معیشت جو تاحال ٹیکس دائرے سے باہر ہے۔

ان نظامی خامیوں کے باعث معمولی ظاہری بہتری کے باوجود، گزشتہ دہائی کے دوران محصولات کی وصولی میں حقیقی معنوں میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا۔ ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی کا تناسب دیگر علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں مسلسل پیچھے ہے اور مالی سال 2024-25 کے لیے مقرر کردہ 10.6 فیصد کے ہدف سے کم رہ گیا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بیوروکریسی کی ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کی نشاندہی اور رجسٹرڈ فائلرز کی تعداد بڑھانے پر غیر متوازن توجہ سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔

اگرچہ 2014 سے کاغذی طور پر رسمی رجسٹریشنز میں اضافہ ہوا لیکن اس کے ساتھ محصولات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا کیونکہ بہت سے فائلرز یا تو انتہائی کم قابلِ ٹیکس آمدن ظاہر کرتے ہیں یا بالکل نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں مجموعی محاصل میں معمولی سا ہی اضافہ ممکن ہو پایا ہے جو واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی تعداد میں رجسٹرڈ افراد اب بھی اپنی مالی ذمہ داریوں کو کم ظاہر کرتے ہیں یا ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

درحقیقت، رجسٹرڈ طبقے میں ٹیکس قوانین کی عدم پابندی، ٹیکس نیٹ سے باہر موجود وسیع غیر رسمی معیشت جتنی ہی سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صرف فائلرز کی تعداد بڑھانے سے، جب تک آمدن چھپانے اور عملدرآمد کی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا، ملکی مالی نظام کو مستحکم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ٹیکس نظام میں موجود ساختی خامیاں نہ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے قوانین کی پابندی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ ان خامیوں نے بہت سے کاروبار کو رسمی معیشت میں شامل ہونے کے بجائے غیر رسمی دائرے میں رہنے کی ترغیب بھی دی ہے۔

ٹیکس چوری کے عام ہونے اور بہت سے کاروباری اداروں کے رسمی معیشت میں شامل نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ ٹیکس نظام سے مطابقت اختیار کرنے کے اخراجات کا غیر معمولی حد تک بلند ہونا ہے۔ حالیہ برسوں میں جہاں ٹیکس کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہیں پیچیدہ طریقہ کار، ریگولیٹری غیر یقینی صورتِ حال اور مجموعی طور پر الجھا ہوا ٹیکس ڈھانچہ—جس میں بالواسطہ ٹیکسز کا غلبہ، مختلف مراحل پر مختلف شرح پر مبنی پیچیدہ وِدہولڈنگ ٹیکس نظام اور نفع سے قطع نظر ٹرن اوور پر عائد کم از کم ٹیکس شامل ہیں—نے کاروبار کو رسمی معیشت میں آنے سے مزید دور کر دیا ہے۔

مندرجہ بالا عوامل کس طرح کاروبار کو رسمی شعبے میں آنے سے روکنے اور حتیٰ کہ ٹیکس نیٹ میں شامل اداروں کے وجود کو بھی خطرے میں ڈالنے کا سبب بنتے ہیں، اس کی ایک موزوں مثال حالیہ بجٹ میں خدمات پر عائد عمومی وِدہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 11 فیصد سے بڑھا کر ٹرن اوور کا بھاری بھرکم 15 فیصد کردینا ہے۔

مجموعی ٹرن اوور پر اس نوعیت کا ٹیکس خصوصاً جب بلند شرح پر عائد کیا جائے، اُن کاروبار کے لیے خاص طور پر تباہ کن ثابت ہوتا ہے جن کے منافع کے مارجن کم ہوتے ہیں، چونکہ یہ ٹیکس حقیقی آمدن سے قطع نظر لاگو ہوتا ہے، اس لیے یہ چھوٹے کاروبار اور نئے داخل ہونے والے اداروں پر غیر متناسب بوجھ ڈال دیتا ہے جن میں سے اکثر کے پاس ایسے اخراجات برداشت کرنے کی مالی سکت موجود نہیں ہوتی۔

نقد بہاؤ اور منافع پر دباؤ کاروباری پائیداری کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کی وجہ سے بعض کاروبار رسمی شعبے سے باہر نکلنے یا مکمل طور پر بند ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ غیررسمی معیشت اور ٹیکس نظام کی پاسداری سے متعلق پالیسیوں کو انتہائی سوچ بچار کے ساتھ مرتب کیا جائے۔ جیسا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے، ٹیکس کی شرح میں اچانک اور زیادہ اضافہ رسمی کاروبار کو زیرِ زمین معیشت کی طرف دھکیل سکتا ہے جب کہ صرف ٹیکس شرح کم کرنا مؤثر نفاذ، ٹیکس نظام میں انتظامی اصلاحات اور ٹیکس دہندگان کی دائرہ کار میں وسعت کے بغیر زیادہ فائدہ نہیں دے سکتا۔

ٹیکس شرح میں ردوبدل کے ساتھ سادہ اور آسان تعمیل کے طریقۂ کار، مؤثر نفاذ کی حکمتِ عملیاں اور غیررسمی سے رسمی شعبے میں آنے والے کاروبار کے لیے بامعنی معاونت بھی فراہم کرنا ضروری ہے۔

ایف بی آر کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ فائلرز کی تعداد میں اضافہ خود بخود زیادہ ریونیو کا ضامن ہے۔ ٹیکس کی بلند شرحوں اور سخت نفاذ پر اس کا انحصار بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پائیدار نتائج کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام میں جامع اور مؤثر ساختی اصلاحات کی جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025