غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے کم از کم 51 افراد کو شہید کردیا ہے، جن میں سے 24 افراد غزہ سٹی کے سمندر کنارے علاقے میں مارے گئے۔ جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں جنگ بندی کے مطالبات تیز ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 دن کی جنگ کا حل غزہ میں جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو دوبارہ زندہ کر چکا ہے، جہاں 20 ماہ سے زائد عرصے سے جاری لڑائی نے 20 لاکھ سے زائد افراد کے لیے شدید بدترین حالات پیدا کر دیے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو 7 جولائی کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ میں معاہدہ کرے اور اسرائیلی وزیرِ اسٹریٹجک امور رون ڈیرمر اس ہفتے امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے ہیں۔
تاہم زمینی سطح پر اسرائیل نے فلسطینی علاقے میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فورسز نے پیر کو 51 افراد کو شہید کردیا ہے، جن میں سے 24 افراد غزہ سٹی کے سمندری کنارے کے تفریحی علاقے میں مارے گئے۔
ایک عینی شاہد احمد النیراب نے اے ایف پی کو بتایا کہ میں نے ہر طرف جسم کے حصے اُڑتے ہوئے دیکھے اور جلتے جسم دیکھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ہمیشہ لوگوں سے بھری ہوتی تھی کیونکہ یہاں مشروبات، اہل خانہ کے بیٹھنے کے لیے جگہ اور انٹرنیٹ کی سہولت ملتی تھی۔
ایک اور عینی شاہد بلال اوکل نے کہا کہ زمین خون سے بھر گئی تھی اور فضا میں آہیں گونج رہی تھیں۔ عورتیں اور بچے ہر طرف تھے، جیسے کسی فلم کا منظر ہو جو دنیا کے اختتام کا بیان کر رہا ہو۔
اے ایف پی کے ذریعے اسرائیلی فوج سے تبصرہ کرنے کی درخواست کی گئی تو فوج نے کہا کہ وہ ان رپورٹوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔
حماس حکومت کے میڈیا دفتر نے اطلاع دی کہ اسٹرائیک میں فوٹو جرنلسٹ اسماعیل ابو حتاب بھی مارے گئے۔
غزہ میں میڈیا پر اسرائیلی پابندیاں اور بعض علاقوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث اے ایف پی غزہ کی حکام اور ریسکیو کارکنوں کی فراہم کردہ تفصیلات اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکی۔