واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی مذاکرات اُس وقت تک بحال نہیں ہو سکتے جب تک امریکہ ایران پر مزید حملوں کا امکان قطعی طور پر مسترد نہ کر دے۔ یہ بات ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اتوار کی شب بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی ہے۔
مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکہ نے ایسے وقت عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہتا ہے جب ایک ہفتہ بعد جب اس نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی تاریخ پر اتفاق کیا ہے اور نہ ہی مذاکرات کے طریقۂ کار پر۔ اس وقت ہم صرف اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ کیا مذاکرات کے دوران ایک بار پھر جارحیت دہرائی جائے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اس انتہائی اہم سوال پر مکمل وضاحت دینی ہوگی۔
یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری تھے جب رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا جس کے بعد 21 جون کو امریکہ نے فردو، نطنز اور اصفہان کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ امریکہ نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنا کر نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا۔
تخت روانچی نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کا حق اب بھی حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ( یورینیم) کی مقدار پر بات ہو سکتی ہے، صلاحیت پر بات ہو سکتی ہے، لیکن یہ کہنا کہ آپ کو( یورینیم) افزودگی کا کوئی حق نہیں، آپ صفر افزودگی پر آئیں، اور اگر آپ نے اتفاق نہ کیا تو ہم آپ پر بمباری کریں گے، یہ جنگل کا قانون ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام بم بنانے کے قریب ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف پُرامن مقاصد ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایران چند ماہ میں یورینیم کی افزودہ پیداوار دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تخت روانچی نے کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔
2015 کے معاہدے کے تحت ایران کو تجارتی جوہری بجلی گھروں کے لیے ایندھن کی غرض سے 3.67 فیصد خالص یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم اس وقت بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے کو ترک کر دیا تھا، جس کے ردِعمل میں ایران نے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع کر دی، یہ سطح شہری مقاصد سے بلند ہے مگر اب بھی جوہری ہتھیاروں کے معیار سے کم۔
اگر اس مواد کو مزید خالص کیا جائے تو اصولی طور پر یہ 9 سے زیادہ ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔