امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی — یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے کسی پاکستانی آرمی چیف سے وائٹ ہاؤس میں اس نوعیت کی ملاقات کی، جس میں کوئی سینیئر سول حکام شریک نہ تھے۔

یہ ملاقات صدر کے سرکاری شیڈول میں درج تھی، جو کابینہ روم میں منعقد ہوئی اور میڈیا کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسلام آباد میں اس ملاقات کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایک بھارتی وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی، جسے بھارتی میڈیا نے سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، پاکستانی وفد کی جانب سے ایسی ملاقات نہ ہونے پر تنقید کی گئی۔ اب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں دعوت کو اسلام آباد میں ان بھارتی بیانیوں کا مؤثر جواب قرار دیا جا رہا ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آج مجھے ان (فیلڈ مارشل منیر) سے ملاقات کر کے فخر محسوس ہوا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ملاقات میں ایران-اسرائیل تنازع پر بھی بات ہوئی، تو ٹرمپ نے کہا: “انہیں (پاکستانیوں کو) ایران کے بارے میں بہت اچھی طرح معلوم ہے، شاید اکثر سے بہتر، اور وہ موجودہ صورتحال سے خوش نہیں۔ یہ نہیں کہ ان کے اسرائیل سے تعلقات خراب ہیں۔ دراصل وہ دونوں کو جانتے ہیں، لیکن ایران کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔

انہوں نے (فیلڈ مارشل عاصم منیر) مجھ سے اتفاق کیا۔ میں نے انہیں یہاں اس لیے بلایا کہ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ جنگ میں نہیں کودے۔ اور میں وزیرِ اعظم (نریندر) مودی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو چند روز قبل یہاں سے روانہ ہوئے تھے۔

ہم بھارت اور پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ دونوں بہت ذہین شخصیات ہیں جنہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی جنگ کو آگے نہیں بڑھائیں گے جو ایٹمی جنگ بن سکتی تھی۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔

ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ظہرانے کی یہ ملاقات امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے، جو ٹرمپ اور ان کے پیشرو جو بائیڈن کے ادوار میں خاصے سرد مہری کا شکار رہے، کیونکہ دونوں رہنماؤں نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کو ترجیح دی۔

قبل ازیں، جب وائٹ ہاؤس کے لان پر رپورٹرز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سے کیا سفارتی نتائج کی توقع رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، یہ وہ شخص ہے جس نے پاکستان کی طرف سے (بھارت سے) جنگ کو روکنے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان-بھارت سیزفائر کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی، حالانکہ وزیرِ اعظم مودی نے منگل کی رات ان سے ہونے والی گفتگو میں واضح کیا کہ یہ پیش رفت دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہوئی تھی، نہ کہ کسی امریکی ثالثی سے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025