کاروبار اور معیشت

شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • مرکزی بینک جون سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرچکا ہے
شائع June 16, 2025 اپ ڈیٹ June 16, 2025 03:47pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پیر کے روز مارکیٹ توقعات کے مطابق شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آج کے اجلاس میں، کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمیٹی نے مئی میں سالانہ بنیان پر مہنگائی میں 3.5 فیصد اضافے کو اپنی توقعات کے مطابق قرار دیا، جبکہ بنیادی مہنگائی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آگے چل کر، توقع ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور یہ مالی سال 26 کے دوران مقررہ ہدف میں مستحکم ہو جائے گی۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ معیشت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ سال یہ مزید رفتار پکڑے گی، جس میں پالیسی ریٹ میں پہلے سے کی گئی کٹوتیوں کے اثرات شامل ہوں گے۔

بیان کے مطابق ساتھ ہی، کمیٹی نے بیرونی شعبے میں کچھ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی، خاص طور پر تجارتی خسارے میں مسلسل اضافے اور مالی وسائل کی کمزوری کی وجہ سے۔ مزید برآں، مالی سال 26 کے مجوزہ بجٹ اقدامات میں سے کچھ درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں، کمیٹی نے آج کے فیصلے کو معاشی اور قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں قرار دیا۔

اپنے گزشتہ اجلاس کے بعد مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے درج ذیل کلیدی پیش رفتوں کا مشاہدہ کیا

پہلا: مالی سال 25-2024 کے لیے حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو عارضی طور پر 2.7 فیصد رپورٹ کی گئی ہے، جبکہ حکومت آئندہ سال کے لیے 4.2 فیصد کی زیادہ ترقی کا ہدف رکھتی ہے۔

دوسرا: تجارتی خسارے میں نمایاں اضافے کے باوجود، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا۔

اسی دوران، توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے پہلے جائزے کی تکمیل کے بعد تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی، جس سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 6 جون تک بڑھ کر 11.7 ارب ڈالر ہو گئے۔

تیسرا: نظرثانی شدہ بجٹ تخمینوں کے مطابق، مالی سال 25-2024 میں پرائمری بیلنس جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے سرپلس پر ہے، جو گزشتہ سال کے 0.9 فیصد سے زیادہ ہے۔ آئندہ سال کے لیے حکومت نے 2.4 فیصد کا زیادہ بنیادی سرپلس ہدف مقرر کیا ہے۔

چوتھا:عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی میں کچھ نرمی کی عکاسی کرتا ہے۔

کمیٹی نے اندازہ لگایا کہ حقیقی سود کی شرح مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے مناسب حد تک مثبت ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی مالی وسائل کی بروقت آمد، مالیاتی نظم و ضبط کا حصول، اور ساختی اصلاحات کا نفاذ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

مہنگائی کی توقعات:

کمیٹی نے ابتدائی اندازے میں کہا کہ حالیہ بجٹ اقدامات کا مہنگائی کے منظرنامے پر محدود اثر پڑے گا۔

تاہم، مہنگائی میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کی توقع ہے، جس کے بعد یہ بتدریج بڑھ کر 5 تا 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم ہو جائے گی۔

یہ منظرنامہ کئی خطرات سے مشروط ہے، جن میں علاقائی جغرافیائی تنازعات کے باعث ممکنہ سپلائی چین کی رکاوٹیں، تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور ملکی توانائی قیمتوں میں رد و بدل کا وقت اور حجم شامل ہیں۔

مارکیٹ کی توقعات

ماہرین توقع کررہے ہیں کہ مرکزی بینک پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا۔

بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ مقامی میکرو اکنامک اشاریے، خاص طور پر مہنگائی اور بیرونی کھاتہ نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ مرکزی بینک ابھرتے ہوئے عالمی خطرات اور ملکی پالیسی میں تبدیلیوں کے پیش نظر ممکنہ طور پر محتاط رویہ اختیار کرے گا اور صورتحال کا مشاہدہ کرے گا۔

عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ ملکی معاشی حالات شرح سود میں کمی کے حق میں ہیں لیکن حالیہ جغرافیائی سیاسی پیشرفت نے صورتِ حال کو مزید نازک بنادیا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ، ڈبلیو ٹی آئی اور عرب لائٹ جیسے بینچ مارک خام تیل کے سودے ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 10 سے 12 فیصد تک بڑھ گئے ہیں جبکہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق یومیہ بنیادوں پر قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ نہ صرف براہِ راست مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر بھی معیشت پر دباؤ بڑھاسکتا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ-چین معاہدے کی متوقع پیشرفت کے باعث بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 68 سے 70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، ایسے میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی میں کسی تبدیلی کے بجائے ممکنہ طور پر موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ہماری رائے میں یہ صورتحال پالیسی سازوں سے محتاط رویے کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ ماضی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی کا ایک بڑا محرک رہا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے مالی سال کے آغاز سے قبل کچھ اہم نوٹیفکیشنز بھی متوقع ہیں جن میں گیس کی قیمت اور بجلی کے نرخ سے متعلق نوٹیفکیشنز شامل ہیں۔

اسی طرح رائٹرز کے ایک جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) غالباً اپنی پالیسی شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا، کیونکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تجزیہ کاروں کو عالمی سطح پر اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہرِ معاشیات احمد مبین نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے جو مہنگائی کے دباؤ کی واپسی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس

گزشتہ اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کردیا تھا۔

اس وقت کمیٹی نے مشاہدہ کیا تھا کہ مارچ اور اپریل کے دوران مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کی بنیادی وجوہات بجلی کے مقررہ نرخوں میں کمی اور خوراک کی مہنگائی میں مسلسل کمی کا رجحان تھیں۔

اپریل میں بنیادی مہنگائی میں بھی کمی دیکھی گئی، جو بنیادی طور پر سازگار بنیاد اثرات اور معتدل طلب کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر، مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اندازہ لگایا کہ مہنگائی کے حوالے سے آئندہ کی صورتحال پچھلے جائزے کے مقابلے میں مزید بہتر ہوئی ہے۔

گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد سے متعدد اہم معاشی پیش رفتیں سامنے آچکی ہیں۔

روپے کی قدر میں 0.6 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تقریباً 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اپریل 2025 کے مقابلے میں زیادہ ہے جب یہ شرح صرف 0.3 فیصد تھی۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اپریل 2025 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ (سی/اے) میں 1.2 ارب ڈالر (نظرثانی شدہ) کے بڑے سرپلس کے مقابلے میں صرف 1.2 کروڑ ڈالر کا معمولی سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ سالانہ بنیاد پر بھی کرنٹ اکاؤنٹ میں 96 فیصد کمی ہوئی جبکہ اپریل 2024 میں یہ سرپلس 31.5 کروڑ ڈالر (نظرثانی شدہ) تھا۔

اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر 6 جون تک ہفتہ وار بنیاد پر 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے اضافے کے ساتھ 11.68 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16.88 ارب ڈالر رہے، جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.12 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔