BR100 Increased By (2.14%)
BR30 Increased By (2.44%)
KSE100 Increased By (1.98%)
KSE30 Increased By (2.03%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.90 (1.56%)
BIPL 24.29 Increased By ▲ 0.52 (2.19%)
BOP 31.91 Increased By ▲ 1.01 (3.27%)
CNERGY 11.74 Decreased By ▼ -0.23 (-1.92%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.46 (3.01%)
DGKC 202.61 Increased By ▲ 7.60 (3.9%)
FABL 93.42 Increased By ▲ 1.33 (1.44%)
FCCL 59.10 Increased By ▲ 2.32 (4.09%)
FFL 13.57 Increased By ▲ 0.23 (1.72%)
GGL 18.98 Increased By ▲ 0.60 (3.26%)
HBL 305.00 Increased By ▲ 9.56 (3.24%)
HUBC 208.19 Increased By ▲ 4.02 (1.97%)
HUMNL 8.75 Increased By ▲ 0.10 (1.16%)
KEL 6.08 Increased By ▲ 0.08 (1.33%)
LOTCHEM 24.98 Increased By ▲ 0.61 (2.5%)
MLCF 102.79 Increased By ▲ 5.30 (5.44%)
OGDC 315.84 Increased By ▲ 5.37 (1.73%)
PAEL 34.40 Increased By ▲ 1.33 (4.02%)
PIBTL 13.54 Increased By ▲ 0.39 (2.97%)
PIOC 264.00 Increased By ▲ 11.09 (4.38%)
PPL 220.77 Increased By ▲ 3.60 (1.66%)
PRL 83.65 Decreased By ▼ -2.01 (-2.35%)
SNGP 95.98 Increased By ▲ 1.86 (1.98%)
SSGC 24.18 Increased By ▲ 0.86 (3.69%)
TELE 7.12 Increased By ▲ 0.39 (5.79%)
TPLP 12.82 Increased By ▲ 0.15 (1.18%)
TRG 54.20 Increased By ▲ 1.03 (1.94%)
UNITY 7.98 Increased By ▲ 0.21 (2.7%)
WTL 0.96 Increased By ▲ 0.02 (2.13%)
اداریہ

آسان ٹیکس اسکیم: جب آسانی مشکل بن جائے

جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسان ٹیکس اسکیم بھی کامیاب نہیں ہو سکی اور اس پر عمل درآمد شروع نہیں ہو...
شائع اپ ڈیٹ

اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسان ٹیکس اسکیم بھی کامیاب نہیں ہوسکی اور اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہو پایا، بالکل اسی طرح جیسے اس سے پہلے 2024ء میں متعارف کرائی گئی تاجِر دوست اسکیم ناکام رہی تھی۔ اس اسکیم کے تحت دس لاکھ تاجروں کی رجسٹریشن کی امید تھی، لیکن اب تک صرف 222 تاجروں نے ہی رجسٹریشن کرائی ہے۔

ان دونوں اسکیموں کا مقصد تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں لانا تھا، لیکن واضح طور پر یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ بہرحال دونوں اسکیموں میں کچھ فرق ضرور تھا، تاہم آسان اسکیم میں کی جانے والی اصلاحات بھی تاجروں کو اس میں زیادہ سے زیادہ شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئیں:

(1) تاجر دوست اسکیم کا طریقۂ کار بجلی بلوں اور جائیداد کی تجارتی مالیت کی بنیاد پر ماہانہ کم از کم پیشگی ٹیکس کی ادائیگی پر مشتمل تھا جبکہ آسان اسکیم کے تحت سالانہ فروخت (سیلز) پر ایک فیصد کی شرح سے یکساں ٹرن اوور ٹیکس یا کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس مقرر کیا گیا تھا۔(ii) تاجِر دوست اسکیم میں ماہانہ باقاعدہ گوشوارہ اور پیشگی گوشوارہ جمع کرانے کی شرط تھی جبکہ آسان اسکیم میں مقامی زبان میں ایک سادہ اور آسان فارم متعارف کرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔(iii) تاجِر دوست اسکیم میں یکمشت یا مقررہ وقت سے پہلے ادائیگی کرنے والوں کے لیے 25 فیصد رعایت اور نئے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں (نئے فائلرز) کے لیے 50 فیصد رعایت کا تصور شامل تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ اسکیم میں آڈٹ سے استثنیٰ، پوائنٹ آف سیل سے استثنیٰ اور کیو آر کوڈ کے ذریعے تحفظ فراہم کرنے کی سہولت شامل ہے جس کا مقصد ایف بی آر کے اہلکاروں کی جانب سے اچانک اور غیر متوقع معائنے سے بچانا ہے۔(iv) تاجِر دوست اسکیم کو تاجروں کی جانب سے منظم اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی صورتِ حال 2026ء کی اسکیم میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ تاہم ایف بی آر واضح طور پر سخت نفاذی اقدامات پر انحصار کررہا ہے اور عدم تعمیل کی صورت میں بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی سہولیات منقطع کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بڑے تاجروں اور دکانداروں نے پہلے ہی رجسٹریشن کرالی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آسان اسکیم میں صرف ان تاجروں کو شامل کیا گیا ہے جن کا سالانہ کاروباری حجم 200 ملین روپے، یعنی 20 کروڑ روپے ہے۔ اس کے ساتھ انہیں ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی کٹوتی سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے کی شرط بھی عائد نہیں کی گئی۔

حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کے تحت مئی 2026ء میں جاری کردہ اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (Memorandum of Economic and Financial Policies) کی تیسری جائزہ رپورٹ میں نشاندہی کی کہ مارچ 2026ء تک ایف بی آر نے آڈٹ کے لیے کام کا ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت آڈٹ کے تمام کیسز ایسے ہائی رسک کیسز ہوں گے جن کی نشاندہی کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ (سی آر ایم) سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 150 سے زائد افسران کو اس نظام کے استعمال کی تربیت دی جارہی ہے۔ مقامی ٹیکس کمشنرز ان کیسز کو یا تو پہلے سے تعینات فیلڈ افسران کے سپرد کریں گے یا نئے بھرتی کیے گئے آڈیٹرز کو تفویض کریں گے۔

ایف بی آر نے مارچ 2026ء کے اختتام تک 431 آڈیٹرز بھرتی کرلیے تھے جبکہ جون 2026ء کے اختتام تک مزید 396 آڈیٹرز بھرتی کیے جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آڈیٹرز کی یہ تعداد ان لاکھوں تاجروں کو ٹیکس قوانین کا پابند بنانے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں جو اس وقت ٹیکس نظام کے دائرۂ کار سے باہر رہ کر کاروبار کررہے ہیں۔

اس اسکیم پر عملدرآمد کے لیے دباؤ آئی ایم ایف کی جانب سے تیسرے جائزے میں دی گئی اس رائے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے:’’اب تک مالیاتی استحکام کے حصول میں ہونے والی پیش رفت کا انحصار بنیادی طور پر رسمی شعبے سے ٹیکس محصولات میں اضافے پر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق حکام کو چاہیے کہ وہ محصولات کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنا کر ان شعبوں میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں تیز کریں جہاں ان کی استعداد کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ اس اقدام سے موجودہ ٹیکس پالیسی کے ڈھانچے میں موجود خامیوں اور بے قاعدگیوں کو دور کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوگی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

پاکستان میں ٹیکس اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب اب بھی خطے کے کم ترین تناسب رکھنے والے ممالک میں شامل ہے جو بدستور آئی ایم ایف کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

اگرچہ آئی ایم ایف اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ 2022ء سے اب تک محصولات میں ہونے والا اضافہ جو آئی ایم ایف کی انتہائی سخت اور پیشگی عائد کردہ شرائط کے تحت حاصل کیا گیا، ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ رہا ہے، تاہم 2025ء میں ٹیکس اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب صرف 12.3 فیصد تک پہنچ سکا۔ یہ شرح ہم پلہ ممالک کے 25ویں پرسنٹائل سے بھی کم ہے۔ اس تناسب میں پیٹرولیم لیوی (جو وفاقی بورڈ آف ریونیو وصول نہیں کرتا) اور صوبائی ٹیکس بھی شامل ہیں جبکہ صرف ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جی ڈی پی کا محض 10.6 فیصد تھیں۔ مزید برآں مالی سال 2025-26ء میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گیا اور اس کمی کی بنیادی وجہ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران تھا۔

بلاشبہ، ٹیکس محصولات میں اضافے کی فوری ضرورت ہے، تاہم یہ توقع بھی کی جانی چاہیے کہ ٹیکس کا ایک زیادہ متوازن نظام وضع کیا جائے گا۔ جیسا کہ آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے، ایف بی آر کی 2025ء کی ٹیکس اخراجات سے متعلق رپورٹ کے مطابق، مختلف نوعیت کی تقریباً 1.2 فیصد جی ڈی پی کے مساوی ٹیکس چھوٹ اب بھی برقرار ہے، بالخصوص رہائشی جائیدادوں کی فروخت اور بعض غذائی اشیا پر۔

مزید برآں، پیداواری عمل کی نگرانی کے ذریعے سیلز ٹیکس کی تعمیل میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقۂ کار تین ذیلی شعبوں، بالخصوص چینی، سیمنٹ اور کھاد کی صنعتوں میں کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے، تاہم اس کی قیمت بے بس صارفین کو چکانا پڑی، کیونکہ اس کے تمام تر اخراجات صارفین پر منتقل کردیے گئے۔

ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو ڈیجیٹل انوائسنگ (برقی رسیدوں) کے وسیع پیمانے پر نفاذ کے ذریعے بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن فی الحال یہ سہولت صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود ہے۔ اسی طرح ایف بی آر کا دکانداروں کی رجسٹریشن کا پروگرام بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکا، جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس کے تحت اب تک صرف 222 تاجروں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف