ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام پاکستان، آسیان بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد
- پاکستان-آسیان بزنس فورم کے قیام، تجارتی نمائشوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کی تجویز
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے کراچی میں فلپائن کے اعزازی قونصل جنرل کے اشتراک سے مستقبل کی مشترکہ راہ کے عنوان سے پاکستان-آسیان بزنس راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا جس میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے آسیان ممالک کے سفارت کاروں، سرکاری نمائندوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے خطاب کیا جبکہ ایف پی سی سی آئی کی کمیٹی برائے سفارت کاری کے چیئرمین حنیف گوہر نے کلیدی خطاب پیش کیا۔ مہمان خصوصی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آسیان کے سفارتی وفد کی قیادت پاکستان میں فلپائن کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی (اے سی آئی) کے چیئرمین ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کی۔ وفد میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور میانمار کے سفرا، ملائیشیا کے ہائی کمشنر اور برونائی دارالسلام کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن بھی شامل تھے۔ کراچی میں فلپائن کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر عمران یوسف نے تقریب کے شریک میزبان کی حیثیت سے میزبانی کی۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے آسیان کی معاشی قوت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں تقریباً 68 کروڑ افراد آباد ہیں اور اس کی مجموعی جی ڈی پی 4 ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ پاکستان کی 1993 سے سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنرشپ کے باوجود دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 11 سے 12 ارب ڈالر ہے، تاہم اس میں نمایاں عدم توازن پایا جاتا ہے اور پاکستان کی برآمدات 1.5 ارب ڈالر سے بھی کم ہیں۔
انہوں نے پاکستان-آسیان بزنس فورم کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو اس کا سیکریٹریٹ بنایا جائے۔ انہوں نے باقاعدگی سے تجارتی نمائشوں، کاروباری اداروں کے درمیان روابط (بی ٹو بی)، ایس آئی ایف سی اور خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کے ذریعے سرمایہ کاری کے فروغ اور 7 ہزار ارب ڈالر کی عالمی حلال معیشت میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے پاکستان-انڈونیشیا ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر نظرثانی، پاکستان-ملائیشیا آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے جائزے اور فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام کے ساتھ مجوزہ ترجیحی تجارتی معاہدوں پر جلد پیش رفت کرنے پر بھی زور دیا۔























Comments