بلند پیداواری لاگت ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، ریحان نسیم
- رواں مالی سال کے آغاز سے برآمدی شعبہ منفی نمو کے ایک تشویشناک رجحان کا سامنا کررہا ہے، نومنتخب چیئرمین
پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب چیئرمین ریحان نسیم نے کہا ہے کہ کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نہ صرف ٹیکسٹائل صنعت میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے بلکہ برآمدات میں اضافے اور صنعتی کاروباری حجم کو بھی محدود کردیا ہے۔ حکومت کو پیداواری لاگت کم کرنے، صنعتی مسابقت بحال کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی وضع کرکے اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے، کیونکہ ٹیکسٹائل شعبے کی پائیداری کا براہِ راست تعلق اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کارکنوں کے روزگار سے ہے۔
ایسوسی ایشن کے سالانہ جنرل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ معاشی حالات میں ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو درپیش سب سے بڑے چیلنج کے طور پر پیداواری لاگت میں اضافے کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی اور صنعتی چیلنجز کے ساتھ مسلسل بلند پیداواری لاگت، بھاری ٹیکس بوجھ اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث پاکستان کا برآمدی شعبہ بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامل صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں، پیداواری صلاحیت اور برآمدی مسابقت کو بری طرح متاثر کررہے ہیں۔
صنعتی پیداوار میں مسلسل سست روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نومنتخب چیئرمین نے کہا کہ رواں مالی سال کے آغاز سے برآمدی شعبہ منفی نمو کے ایک تشویشناک رجحان کا سامنا کررہا ہے۔
انہوں نے توسیع کی سست رفتار کو وسیع تر معاشی سست روی سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کاروباری ماحول نے برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں میں مسابقت کرنا بتدریج مشکل بنا دیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments