آئی ایم سی کی گاڑیوں کی فروخت میں 33 فیصد کا شاندار اضافہ
- 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 45,035 یونٹس فروخت کیے گئے
انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی ایم سی) نے 30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال کا اختتام گاڑیوں کی فروخت (یونٹ سیلز) میں 33 فیصد کے شاندار اضافے کے ساتھ کیا۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم سی نے مالی سال کے دوران 45,035 یونٹس فروخت کیے جو مالی سال 2024-25 کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہیں اور مجموعی صنعت کی بحالی کی رفتار سے بھی آگے ہیں۔ کمپنی کی خالص فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی گزشتہ سال کے 215.14 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 258.75 ارب روپے ہوگئی۔
منافع بخش صورتِ حال میں بھی بہتری آئی۔ ٹیکس اور لیوی سے قبل منافع 37.67 ارب روپے سے بڑھ کر 42.82 ارب روپے ہوگیا جس کی وجہ کمپنی نے اخراجات پر قابو، پرزہ جات کی مقامی سطح پر زیادہ تیاری اور سازگار شرحِ مبادلہ کو قرار دیا۔ ٹیکس کٹوتی کے بعد خالص منافع 23.01 ارب روپے سے بڑھ کر 25.51 ارب روپے ہوگیا جبکہ فی حصص آمدنی بھی 292.74 روپے سے بڑھ کر 324.50 روپے ہوگئی۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق مسافر گاڑیوں اور لائٹ کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں بحالی ہوئی جو سالانہ بنیادوں پر 39 فیصد اضافے سے 206,000 یونٹس سے تجاوز کرگئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں صارفین کے اعتماد میں بہتری، آٹو فنانسنگ تک آسان رسائی، نئی مصنوعات کا متعارف کرایا جانا اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات شامل ہیں۔
تاہم پاما کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات اب بھی مجموعی مارکیٹ کا تقریباً 19 فیصد ہیں جو مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے پالیسی میں تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
آئی ایم سی کے چیئرمین محمدعلی آر حبیب نے مالی سال 2025-26 کو پاکستان کے لیے معاشی استحکام اور بتدریج بحالی کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی کارکردگی اس کے کاروبار، برانڈز اور ٹیموں کی مضبوطی کی عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آٹو موٹیو صنعت میں پالیسی منتقلی کے مرحلے کے دوران مستحکم اور قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول انتہائی ضروری ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments