آبی وسائل کا باہمی تعلق: موسمیاتی خطرات سے معاشی مضبوطی تک
- پانی اور معاشی تحفظ ایک دوسرے سے جدا نہیں؛ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کو مؤثر آبی انتظام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مربوط پالیسی سازی کے ذریعے پانی کو تنازع نہیں بلکہ معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی بنیاد بنانا ہوگا۔
کئی دہائیوں تک پانی سے متعلق بحث کا محور بنیادی طور پر آبپاشی، ڈیموں اور دریاؤں کے بہاؤ تک محدود رہا۔ تاہم آج موسمیاتی تبدیلی نے پانی کو دنیا کے سب سے سنگین تزویراتی چیلنجز میں شامل کردیا ہے۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سکڑتے گلیشیئرز، مون سون کے بے قاعدہ موسم، طویل خشک سالی اور تباہ کن سیلاب آبی چکر کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔ جو دریا کبھی خوش حالی کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب قومی سلامتی، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی سے متعلق مباحث کا مرکز بن چکے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات ماحول تک محدود نہیں بلکہ زراعت، صنعت، توانائی، تجارت اور صحتِ عامہ سمیت معیشت کے مختلف شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔
پانی اور معاشی تحفظ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ پاکستان میں میٹھے پانی کا سب سے بڑا صارف زراعت کا شعبہ ہے اور یہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی قومی آبی پالیسی 2018 کے مطابق آبپاشی پر مبنی زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملک کے تقریباً 95 فیصد آبی وسائل اسی شعبے میں استعمال ہوتے ہیں۔
پانی کی دستیابی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر فصلوں کی پیداوار، غذائی اشیا کی قیمتوں، زرعی صنعتوں اور برآمدی آمدنی کو متاثر کرتی ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی مہنگائی میں اضافے، دیہی آمدنی میں کمی اور پہلے ہی مشکلات سے دوچار گھرانوں پر اضافی بوجھ کا باعث بن سکتی ہے۔ یوں کھیتوں میں پانی کی قلت سے شروع ہونے والا مسئلہ جلد ہی منڈیوں، کاروبار اور مجموعی معیشت تک سرایت کرجاتا ہے۔
اصلاحات کی ضرورت کا اندازہ اعداد و شمار سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی قومی آبی پالیسی 2018 کے مطابق فی کس سطحی پانی کی سالانہ دستیابی 1951 میں 5,260 مکعب میٹر سے کم ہوکر 2016 میں تقریباً 1,000 مکعب میٹر رہ گئی تھی۔ پالیسی میں خوراک اور صحت پر پانی کی قلت کے اثرات سے بچنے کے لیے فی کس سالانہ 1,000 مکعب میٹر پانی کو کم از کم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بھی پاکستان کو پانی کی قلت کا شکار ملک قرار دیا ہے، جہاں فی کس پانی کی دستیابی 1,000 مکعب میٹر سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار مؤثر آبپاشی، ڈیجیٹل تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ آبی انتظام و حکمرانی کی فوری ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
’واٹر نیکسس‘ یعنی آبی وسائل کے باہمی تعلق کا تصور ان باہم جڑے ہوئے تزویراتی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ پانی کا انتظام دیگر شعبوں سے الگ تھلگ ہوکر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق غذائی نظام، توانائی کی پیداوار، صنعتی ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور سماجی بہبود سے ہے۔ اسی طرح زراعت، توانائی اور شہری ترقی سے متعلق پالیسیاں پانی کی طلب اور دستیابی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ چنانچہ الگ الگ اور غیر مربوط پالیسی سازی موجودہ کمزوریوں کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس کے برعکس مربوط حکمرانی مختلف شعبوں کی ضروریات میں توازن قائم کرتے ہوئے طویل مدتی پائیداری کے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس تزویراتی چیلنج کی شدت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات کے مقابلے میں انتہائی غیر محفوظ ہے۔ عالمی بینک نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نسبتاً معمولی حصے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے غیر متناسب اثرات کا شکار ہے۔
تباہ کن سیلاب، طویل ہیٹ ویوز، گلیشیئرز کا پگھلاؤ اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے ملک پر بے پناہ معاشی اور سماجی اخراجات عائد کیے ہیں۔ یہی واضح عدم توازن موسمیاتی انصاف کی بحث کا بنیادی نکتہ ہے۔ بڑی معیشتیں عالمی اخراج میں کہیں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک نسبتاً کم کردار کے باوجود اس مسئلے کے غیر متناسب نتائج بھگت رہے ہیں۔
لہٰذا موسمیاتی انصاف محض اخلاقی مؤقف نہیں بلکہ ایک ناگزیر پالیسی تقاضا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کو موافقت کی صلاحیت بڑھانے کے لیے موسمیاتی مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ادارہ جاتی تعاون تک منصفانہ رسائی درکار ہے۔ لچک دار بنیادی ڈھانچے، پائیدار زراعت اور سائنسی تحقیق و جدت میں سرمایہ کاری کو محض اختیاری ترقیاتی امداد کے بجائے عالمی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔ گرم ہوتی ہوئی دنیا اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ موسمیاتی اثرات سیاسی سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
تاہم عالمی تعاون اکیلا پاکستان کے تزویراتی آبی مسائل حل نہیں کرسکتا۔ داخلی اصلاحات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ فرسودہ آبپاشی نظام، زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ اخراج، خستہ حال نہری ڈھانچہ اور پانی کی غیر مؤثر تقسیم بدستور پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔
قومی آبی پالیسی میں زیرِ زمین پانی کے ضرورت سے زیادہ استعمال، اس کے معیار میں گراوٹ اور آبپاشی کی کم کارکردگی کو ملکی آبی شعبے کے بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے۔ جب تک ان بنیادی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا، موسمیاتی تبدیلی موجودہ دباؤ میں مزید اضافہ کرتی رہے گی۔
یہیں ڈیجیٹل تبدیلی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ تصاویر، ریموٹ سینسنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز اور جدید و دقیق زراعت جیسی ٹیکنالوجیز آبی وسائل کے انتظام کا طریقہ تبدیل کر رہی ہیں۔
اسمارٹ آبپاشی نظام یہ تعین کرسکتے ہیں کہ فصلوں کو کب اور کہاں پانی درکار ہے۔ مٹی میں نمی جانچنے والے سینسر پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے ساتھ پیداوار بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے حکومتیں خشک سالی کی پیش گوئی، آبی ذخائر کی نگرانی اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ کرسکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی آبی انتظام و حکمرانی کو زیادہ دانش مندانہ، مؤثر اور موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنا رہی ہے۔
کھیتوں کی سطح پر ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز صرف زرعی پیداوار ہی بہتر نہیں کرتیں۔ ڈیجیٹل خواندگی، ٹیکنالوجی سے لیس زرعی صلاحیتیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے فراہم کردہ مشاورتی نظام کسانوں کو وسائل کی بہتر تقسیم، پیداواری اخراجات میں کمی اور موسمیاتی تغیر سے زیادہ مؤثر انداز میں مطابقت پیدا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
پانی کے مؤثر استعمال سے ڈیجیٹل زراعت ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ساتھ زرعی معیشت کی کارکردگی بھی بہتر بناتی ہے۔ چنانچہ ڈیجیٹل تبدیلی کو محض تکنیکی جدت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تیزی سے موسمیاتی موافقت، عوامی پالیسی اور آبی حکمرانی کا ایک لازمی ستون بنتی جا رہی ہے۔
عوامی پالیسی کو بھی اب اسی کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے۔ اسمارٹ آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت سے لیس موسمیاتی پیش گوئی، ڈیجیٹل زرعی توسیعی خدمات، زیرِ زمین پانی کی نقشہ سازی، سیٹلائٹ کی مدد سے فصلوں کی نگرانی اور دقیق زراعت میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ایسی سرمایہ کاری نہ صرف محدود آبی وسائل کے تحفظ میں مدد دے گی بلکہ غذائی تحفظ کو مضبوط، دیہی روزگار کو مستحکم اور ملکی معاشی مسابقت کو بہتر بنائے گی۔ بڑھتی ہوئی موسمیاتی غیر یقینی صورت حال میں ٹیکنالوجی موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں مضبوطی اور پائیدار مستقبل کی جانب بڑھنے کا ایک مؤثر ترین عملی راستہ فراہم کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ آبی حکمرانی کو زرعی، موسمیاتی، توانائی اور معاشی پالیسیوں سے الگ نہیں چلایا جانا چاہیے۔ مؤثر پالیسی سازی کے لیے وزارتوں کے درمیان پالیسیوں میں ہم آہنگی، وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور سائنسی شواہد پر زیادہ انحصار ضروری ہے۔ جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کو بھی پائیدار آبی انتظام کے لیے جدید حل تیار کرنے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
علاقائی تعاون بھی اسی قدر اہم ہے۔ مشترکہ دریا سرحدوں کے آرپار ماحولیاتی نظام، معیشتوں اور آبادیوں کو جوڑتے ہیں۔ سائنسی تعاون، شفاف اعداد و شمار کا تبادلہ، سیلاب کی پیشگی پیش گوئی اور موسمیاتی تحقیق کے ذریعے تعمیری رابطہ محاذ آرائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوائد فراہم کرسکتا ہے۔
پانی کو کبھی دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ عدم استحکام کے اثرات ایک ہی دریائی نظام سے وابستہ تمام ممالک تک پہنچتے ہیں۔ سرحد پار آبی وسائل کا پائیدار انتظام بالآخر ان تمام ممالک کے اجتماعی مفاد میں ہے جو ان دریائی نظاموں میں شریک ہیں۔
کاروباری برادری کا بھی آبی حکمرانی میں اہم مفاد ہے۔ قابلِ اعتماد آبی فراہمی مینوفیکچرنگ، زرعی کاروبار، توانائی کی پیداوار اور شہری ترقی کی بنیاد ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے ہوئے سرمایہ کار بھی موسمیاتی لچک اور ماحولیاتی پائیداری کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
جو ممالک بہتر آبی حکمرانی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے لیے سرمایہ کاری متوجہ کرنے، برآمدات بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل آبی عدم تحفظ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا، پیداواری لاگت بڑھاتا اور ترقی کے امکانات محدود کرتا ہے۔
عوامی آگاہی بھی ناگزیر ہے۔ پائیدار آبی انتظام صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں ہوسکتا۔ کسان، صنعتیں، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور گھرانے سب پانی کے تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مؤثر طریقوں سے بچایا جانے والا ہر لیٹر پانی قومی لچک میں اضافہ کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ مستقبل انہی قوموں کا ہوگا جو اس حقیقت کو تسلیم کریں گی۔ دریاؤں کا تحفظ زراعت کا تحفظ ہے، زراعت کا تحفظ روزگار اور معاش کا تحفظ ہے، جبکہ روزگار اور معاش کا تحفظ معیشت کو مضبوط اور پائیدار امن کو فروغ دیتا ہے۔ آبی وسائل کا باہمی تعلق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موسمیاتی تحفظ، معاشی خوش حالی اور علاقائی تعاون الگ الگ راستوں پر نہیں بہتے۔
دریاؤں کی طرح یہ سب ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ موسمیاتی غیر یقینی سے عبارت اس صدی میں آج کی جانے والی ہر پالیسی اصلاح، ہر تکنیکی جدت اور ہر باہمی تعاون اس بات کا تعین کرے گا کہ پانی مستقبل میں بار بار کے تنازعات کا سبب بنتا ہے یا ایک ایسے زیادہ موسمیاتی مزاحم، خوش حال اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بنتا ہے جہاں پانی ترقی اور استحکام کا ذریعہ ہو۔
























Comments