یورپ بحرانوں کی لپیٹ میں
- مسافر طیاروں کے ساتھ لڑاکا طیاروں کی پرواز، ہوائی اڈوں کے رن وے بند ہونا اور بم کی دھمکیوں کے بعد مسافروں کا انخلا، ایک ایسے براعظم کے لیے کسی طور اطمینان بخش مناظر نہیں ہیں جو پہلے ہی متعدد بحرانوں سے نبرد آزما ہے
مسافر طیاروں کے ساتھ لڑاکا طیاروں کی پرواز، ہوائی اڈوں کے رن وے بند ہونا اور بم کی دھمکیوں کے بعد مسافروں کا انخلا، ایک ایسے براعظم کے لیے کسی طور اطمینان بخش مناظر نہیں ہیں جو پہلے ہی متعدد بحرانوں سے نبرد آزما ہے۔ 3 نومبر کو اسپین، اٹلی، پولینڈ اور بلغاریہ میں ریان ایئر، وِز ایئر، ایل او ٹی اور ایس اے ایس کی کم از کم سات کمرشل پروازوں کو بم کی دھمکیاں دی گئیں۔ ڈبلن سے روم جانے والی ایک پرواز کو اطالوی یورو فائٹرز لڑاکا طیاروں نے حفاظتی حصار میں لیا، جبکہ لندن سے آنے والی ایل او ٹی کی ایک پرواز کا رخ موڑ کر وارسا موڈلن منتقل کردیا گیا، جس کے باعث ہوائی اڈے کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔ تمام متاثرہ طیارے بحفاظت اتر گئے اور کسی میں بھی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
فضائی سفر کو لاحق ان خطرات کے دوران ایک اور تشویش ناک پیش رفت سامنے آئی: یورپ کے کم از کم نو ممالک میں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام پر سائبر حملے کیے گئے، جن میں بیلجیئم، سویڈن، اٹلی، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز بھی شامل ہیں۔ ہیکرز نے فریزرز اور ریفریجریٹرز کے درجہ حرارت میں ردوبدل کیا، جس کے نتیجے میں خوردہ فروشوں کو خراب ہونے والی اشیائے خورونوش ضائع کرنا پڑیں۔ یورپی کمیشن نے ان واقعات کو یورپی یونین کی غذائی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوششیں قرار دیا ہے۔ فضائی سفر اور خوراک کی خوردہ فروشی کے شعبوں پر یہ مشترکہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ کا اہم بنیادی ڈھانچہ نسبتاً کم لاگت پر کیے جانے والے ایسے حملوں کے مقابلے میں کس قدر غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے، جن کی ذمہ داری سے انکار بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان حملوں کے ذمہ داروں کی شناخت نہیں ہوسکی، تاہم بعض سیکیورٹی ماہرین نے ان میں روس سمیت ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر ایسے خدشات کو محض نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم بڑا سوال یہ ہے کہ یورپ خود کو اس قدر غیر محفوظ صورت حال میں کیوں پاتا ہے اور کیا اس کی سیاسی قیادت میں ایک ایسی دنیا کا سامنا کرنے کے لیے دور اندیش حکمت عملی موجود ہے جو مسلسل غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔
یورپ کی کمزوریاں صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں ہیں۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور پرتگال میں نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور مہنگائی، ناقابل برداشت رہائشی اخراجات، تعلیم کے لیے ناکافی فنڈز اور عوامی خدمات کے بگڑتے معیار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے اس وسیع تر مایوسی کا اظہار ہیں جو نوجوان نسل میں سیاسی نظام سے پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی اشرافیہ عام شہریوں کے مسائل اور ضروریات سے مسلسل دور ہوتی جا رہی ہے۔ یورپ اس وقت اعتماد کے بحران سے دوچار ہے اور اس صورت حال سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا سے انتہائی دائیں بازو کے عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس صورت حال کو مزید سنگین بنانے میں یورپ کی ایسی خارجہ پالیسی کا بھی کردار ہے جس نے اسے اسٹرٹیجک طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد یورپی حکومتوں نے بڑی حد تک ماسکو کے حوالے سے واشنگٹن کے سخت گیر مؤقف کی پیروی کی۔ یوکرین کی حمایت اور روسی جارحیت کی مخالفت کے جائز اسباب موجود تھے۔ لیکن اس بات پر غور کرنے کی خواہش حیران کن حد تک کم دکھائی دی کہ آیا ماسکو پر دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ زیادہ حقیقت پسندانہ اور مفاہمت پر مبنی سفارتی حکمت عملی اختیار کرکے تنازع ختم کرنے کا کوئی راستہ پہلے تلاش کیا جا سکتا تھا۔
روس اب بھی ایک بڑی فوجی اور جوہری طاقت ہے اور یورپ کے جغرافیائی و اسٹرٹیجک پڑوس کا مستقل حصہ ہے۔ اسے ایک ایسی ناقابل قبول ریاست سمجھنا جس کے ساتھ بامعنی روابط ممکن ہی نہ ہوں، درحقیقت یورپ کے اپنے سفارتی امکانات کو محدود کرتا ہے۔ بعد ازاں واشنگٹن کی جانب سے ٹرمپ کی امریکا فرسٹ پالیسی کی طرف واپسی نے امریکی قیادت پر یورپ کے انحصار کے خطرات کو واضح کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تجارتی محاذ آرائی، روایتی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ بیانات اور انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کے لیے سیاسی حمایت نے بحر اوقیانوس کے دونوں جانب تعلقات کو مزید غیر مستحکم کردیا ہے۔ یورپ خود کو ایک ایسے اتحادی کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کر رہا ہے جس کا طرز عمل تیزی سے غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے، اور ایک ایسے حریف کے درمیان جس کے ساتھ اس نے بامعنی روابط کو غیر معمولی حد تک مشکل بنا دیا ہے۔
روس کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں یورپ کو بنیادی نوعیت کی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب روسی جارحیت کو جائز قرار دینا یا یوکرین کو تنہا چھوڑ دینا نہیں ہے، بلکہ یورپی رہنماؤں کو جغرافیائی و سیاسی حقائق تسلیم کرتے ہوئے سفارتی گنجائش بحال کرنا اور یورپی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ اسی طرح داخلی سیاست میں بھی فوری اور بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انتہائی دائیں بازو کا مقابلہ امیگریشن سے متعلق بیانات میں ظاہری تبدیلیوں یا ان روایتی معاشی نسخوں کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا جن پر عمل کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں عوام میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کا سبب بن چکی ہیں۔ یورپ کو ایک نئے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے جو عوام کے حقیقی معاشی اور سماجی مسائل حل کرے، جمہوری اداروں پر اعتماد بحال کرے اور نوجوان نسل کو اپنے مستقبل میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے۔
اگر یورپ کی روایتی سیاسی جماعتوں نے اپنے سامنے موجود کثیر الجہتی بحرانوں کی سنگینی کو تسلیم نہ کیا اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ براعظم بدستور عدم تحفظ، سیاسی انتشار اور اسٹرٹیجک غیر اہمیت کی دلدل میں پھنسا رہے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments