مشرق وسطیٰ میں سپلائی خدشات، خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ
- برینٹ خام تیل کے جنوری کے سودوں کی قیمت 1.57 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے سے 99.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد کمی کا امکان ہے، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو انتخابی شکست کے بعد ایران جنگ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات قیمتوں میں مزید کمی کو محدود کر رہے ہیں۔
جمعے کو عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کے جنوری کے سودوں کی قیمت 1.57 ڈالر یا 1.6 فیصد اضافے سے 99.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.10 ڈالر یا 1.22 فیصد بڑھ کر 91.62 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے باوجود برینٹ خام تیل کی قیمت رواں ہفتے 12 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 12.1 فیصد گرنے کے امکان سے دوچار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد توقعات پیدا ہوئی تھیں کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد کمی ہوئی اور دونوں بینچ مارک دو ماہ کی کم ترین سطح پر آگئے۔
تاہم خلیج اور آبنائے ہرمز میں بدھ اور جمعرات کو آئل ٹینکروں پر حملوں میں اضافے کے بعد قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی۔ آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔
اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور اسے چھوڑنے کا امکان نہیں، جبکہ اس راستے سے تیل کی ترسیل معمول کی گنجائش کے 60 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں مزید تین آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاع دی، جبکہ برطانوی بحری سلامتی ادارے یو کے ایم ٹی او کے اعداد و شمار کے مطابق ٹینکروں پر حملے تقریباً ریکارڈ سطح کے قریب برقرار ہیں۔


Comments