اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا ایران جنگ کے تناظر میں علاقائی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال
- دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا ہے
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق، گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔
اسحاق ڈار نے زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام فریق تعمیری انداز میں بات چیت کے عمل سے جڑے رہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق، انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
یہ گفتگو امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں ایک بار پھر تیزی آنے کے دوران ہوئی ہے۔ اس تنازع نے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے، عالمی توانائی منڈیوں پر اثر ڈالا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان اور قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔
یہ تازہ سفارتی رابطہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جن میں ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دھچکا پہنچایا۔
انتخابی مہم کے دوران ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات، بالخصوص ایندھن اور روزمرہ اخراجات میں اضافے، ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بنے۔
انتخابی دھچکے کے باوجود، ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع برقرار رکھا ہے، جس کے باعث مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔


Comments