پیٹرول اور ڈیزل کی طلب بدستور کمزور
- اکتوبر 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت 1.48 ملین ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر ایک فیصد کم ہے
پاکستان کے آئل مارکیٹنگ شعبے میں مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت میں معمولی اضافے کے باوجود بنیادی طلب کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ جولائی سے اکتوبر 2026 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت 5.59 ملین ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ فرنس آئل کی فروخت سے حاصل ہوا، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی طلب بدستور محدود رہی۔
اکتوبر 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت 1.48 ملین ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر ایک فیصد کم، تاہم ماہانہ بنیاد پر 10 فیصد زیادہ ہے۔ فرنس آئل کو نکال کر دیکھا جائے تو فروخت میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد کمی ہوئی۔ مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران بھی فرنس آئل کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی فروخت کے اعداد و شمار میں بہتری لازمی طور پر معاشی سرگرمیوں میں وسیع تر بحالی کی عکاسی نہیں کرتی۔
اکتوبر 2026 میں پیٹرول کی فروخت سالانہ بنیاد پر 2 فیصد کم ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، ماہانہ بنیاد پر ڈیزل کی کھپت میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ ربیع کی فصلوں کی بوائی کے موسم سے وابستہ زرعی سرگرمیوں میں اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران پیٹرول کی فروخت میں معمولی 2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت کا حجم 4 فیصد کم ہوگیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں بدستور کھپت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اکتوبر 2026 میں پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 387 روپے فی لیٹر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 396 روپے فی لیٹر رہی، جس میں لگ بھگ 45 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ بلند قیمتیں صارفین کی نقل و حرکت، مال برداری کی سرگرمیوں اور نقل و حمل کے اخراجات کو متاثر کر رہی ہیں، جس کے باعث طلب میں بامعنی بحالی محدود ہے۔
دوسری جانب فرنس آئل پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں اضافے کا اہم محرک بنا ہوا ہے۔ اکتوبر 2026 میں فرنس آئل کی کھپت سالانہ بنیاد پر تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 95 ہزار ٹن ہوگئی، جبکہ مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران اس کی مجموعی فروخت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً پانچ گنا بڑھ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں رکاوٹیں ہیں، جس کے باعث بجلی کے شعبے کو بجلی پیدا کرنے کے لیے فرنس آئل پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ توانائی کی لاگت کے نقطہ نظر سے یہ صورتحال کسی طور حوصلہ افزا نہیں، کیونکہ اس تبدیلی کی وجہ صنعتی طلب میں اضافہ نہیں بلکہ رسد کی رکاوٹیں ہیں۔
ریفائنری شعبے میں بھی سرگرمیوں میں بہتری دیکھی گئی۔ اکتوبر 2026 میں ریفائنریوں کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 9.2 فیصد بڑھی، جبکہ فرنس آئل کی پیداوار میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس پیٹرول کی پیداوار 9.5 فیصد اور ڈیزل کی پیداوار 1.5 فیصد کم ہوگئی۔

مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران ریفائنریوں کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا، جسے خام تیل کی زیادہ دستیابی اور پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال سے سہارا ملا۔ تاہم، پیداوار میں فرنس آئل کا بڑھتا ہوا حصہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ زیادہ قدر کی حامل پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کے لیے ریفائنریوں کو جدید بنانے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بنیادی طلب کمزور ہونے کے باوجود آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ او ایم سیز کے شعبے کی آمدنی سالانہ بنیاد پر 144 فیصد بڑھ گئی، جبکہ آمدنی (ریونیو) میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی منافع میں بھی نمایاں بہتری آئی، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں اور ذخیرے کی مالیت میں اضافے سے حاصل ہونے والا منافع تھا۔ اس طرح منافع میں بہتری کا سبب طلب میں پائیدار بحالی کے بجائے زیادہ تر قیمتوں اور ذخیرے کی مالیت میں اضافے سے حاصل ہونے والے فوائد تھے۔
ریگولیٹری محاذ پر ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ او ایم سیز کے مارجن برقرار رکھے گئے ہیں۔ ان میں مزید ردوبدل کو سپلائی چین میں خودکاری کے تقاضوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ آپریٹنگ اور مالیاتی اخراجات میں اضافہ بدستور تقسیم کاروں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
آنے والے مہینوں میں اس شعبے کی بحالی کا انحصار ایندھن کی قیمتوں، زرعی سرگرمیوں اور مجموعی معاشی طلب پر ہوگا۔ اگرچہ فرنس آئل کی فروخت مجموعی اعداد و شمار کو سہارا دیتی رہ سکتی ہے، تاہم حقیقی اور بامعنی بحالی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں مسلسل اضافہ ضروری ہے، جس پر خوردہ سطح پر ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث بدستور دباؤ برقرار رہے گا۔


Comments