درآمدات پر بڑھتا انحصار
- عالمی بینک کو توقع ہے کہ 2026-27 میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد کم ہوجائے گی
پاکستان کی کپاس کی فصل میں ایک بار پھر کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیونکہ ملک کی سب سے بڑی اشیائے تجارت کی برآمدی صنعت اب بھی بڑی حد تک اسی ریشے پر انحصار کرتی ہے۔
عالمی بینک کو توقع ہے کہ 2026-27 میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد کم ہوجائے گی، جبکہ عالمی پیداوار میں 3 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے برعکس بھارت اور برازیل میں کپاس کی پیداوار میں تقریباً ایک، ایک فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ان اعداد و شمار کو حکومت کی زرعی ترجیحات کا فوری جائزہ لینے کا محرک بننا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں اجناس کو بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔
خطرے کی گھنٹیاں کافی عرصے سے بج رہی ہیں، تاہم اس بات کے شواہد بہت کم ہیں کہ حکومت نے ملکی پیداوار کو ان خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی مؤثر اور مربوط کوشش کی ہو، جو اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔
بین الاقوامی حالات بھی کسی قسم کا اطمینان فراہم نہیں کرتے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے توانائی کی فراہمی متاثر کی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث بحیرہ اسود کے راستے ترسیل کا عمل بدستور محدود ہے۔ اس کے علاوہ ایل نینو کے شدید اثرات زرعی پیداوار کے لیے ایک اور خطرہ بن سکتے ہیں۔
عالمی بینک نے 2026 میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے، جس کی قیادت توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کے ساتھ کرینگی، جبکہ غذائی اجناس کی قیمتیں 10 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔ آئندہ سال مجموعی طور پر اجناس کی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی کے باوجود غذائی اشیا کی قیمتوں میں مزید 7 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان حالات کے کھاد، ایندھن، نقل و حمل اور زرعی پیداوار میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کی قیمتوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
ان خطرات سے آگاہ حکومت کو کپاس کی پیداوار سے متعلق تازہ ترین پیش گوئی سامنے آنے سے بہت پہلے ہی کسانوں اور کپاس کی پوری پیداواری چین کو ممکنہ مشکلات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا چاہیے تھا۔
پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں کپاس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے لیے خام مال فراہم کرتی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا اشیائے تجارت کا برآمدی شعبہ ہے۔ یہ شعبہ کاشت کاری، جننگ، اسپننگ، ویونگ اور مصنوعات کی تیاری سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔
ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کا درآمدی کپاس پر انحصار پہلے ہی بڑھ چکا ہے، جس سے زرمبادلہ کی ضروریات پر دباؤ میں اضافہ اور ملکی صنعت کو عالمی قیمتوں اور رسد میں تعطل کے خطرات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو کپاس پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت سے نمایاں قدرتی برتری حاصل تھی۔
اپنی اس برتری کو زوال پذیر ہونے دینا، جبکہ ملکی صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس کا زیادہ حصہ درآمد کیا جا رہا ہو، معاشی منصوبہ بندی کی سنگین ناکامی ہے۔
بھارت کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے خاص طور پر سبق آموز ہے۔ وہاں کپاس کی پیداوار میں ایک فیصد اضافے کا امکان بظاہر معمولی دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اہمیت اس بات کی ہے کہ وہاں پیداوار میں اضافے کا رجحان ہے۔ بھارت کی برآمدات کا شعبہ کہیں زیادہ متنوع ہے، جس میں بڑے پیمانے پر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خدمات کی صنعت کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ اور زراعت بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان اشیائے تجارت سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی کے لیے ٹیکسٹائل پر کہیں زیادہ انحصار کرتا ہے۔
اس لیے اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں کسی بھی قسم کی کمی کے اثرات صرف کپاس کے کاشت کاروں اور ٹیکسٹائل ملوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر حریف ممالک اپنی پیداوار برقرار رکھنے یا اس میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، جبکہ پاکستان کو اپنے خام مال کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو، تو ملک کو عالمی منڈی میں اپنا حصہ کھونے کا خطرہ ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوسکتی ہے جب پاکستان کو اپنی برآمدات کی بنیاد وسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
حکومت کا ردعمل محض پیداواری اہداف کے اعلان یا کاشت کے موسم سے کچھ عرصہ پہلے زرعی مداخل تقسیم کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کپاس کی پیداوار کے لیے ایک مربوط اور کئی سال پر مشتمل حکمت عملی درکار ہے، جس میں بیج کا معیار، زرعی تحقیق، کیڑوں کا تدارک، پانی کی دستیابی، وسیع زرعی خدمات اور کاشت کاری کے معاشی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے۔
کسانوں کو معاونت کے قابل پیش گوئی انتظامات اور ادائیگیوں کی بروقت فراہمی کی ضرورت ہے، جبکہ ان پالیسیوں اور معاشی بے ضابطگیوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جو دیگر فصلوں کو کپاس کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش بناتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی اقسام، آب پاشی کے بہتر طریقوں اور فصلوں کی قابل اعتماد نگرانی کو زرعی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
ٹیکسٹائل صنعت کو بھی ایسا قابل پیش گوئی پالیسی فریم ورک درکار ہے جو ملکی کپاس کی پیداوار کو فروغ دے اور درآمدی خام مال کو مصنوعی طور پر زیادہ پرکشش نہ بنائے۔
برآمدات بڑھانے کے عزائم کا بار بار اظہار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر ان برآمدات کے ایک بڑے حصے کی بنیاد بننے والے زرعی شعبے کو نظر انداز کیا جاتا رہے۔
حکومت کو صوبائی انتظامیہ، تحقیقی اداروں، کاشت کاروں اور ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے والوں کو ایک مربوط پروگرام میں شامل کرنا ہوگا، جس کے تحت پیداوار کے واضح اہداف مقرر کیے جائیں اور پیش رفت کی عوامی سطح پر نگرانی کی جائے۔ حکومت کو مسلسل پیداوار میں کمی کی وجوہات کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے اور ان کی اصلاح کے لیے ذمہ داری بھی متعین کرنی چاہیے۔
پاکستان بین الاقوامی جنگوں، ترسیل میں رکاوٹوں یا موسم کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ تاہم وہ اپنی زرعی معیشت کو ان کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ضرور کرسکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حریف ممالک اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہوں، ملکی کپاس کی پیداوار میں کمی کو جاری رہنے دینا ایک ایسا نقصان ہوگا جس سے باآسانی بچا جاسکتا ہے۔ پاکستان کئی برس سے برآمدات پر مبنی ترقی کے بارے میں بات کرتا آ رہا ہے۔ اب اسے اس بات کو یقینی بنانے سے آغاز کرنا چاہیے کہ اس کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کے پاس ترقی کے لیے درکار خام مال موجود ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments