اقتدار سے محرومی کے خطرے کے پیش نظر نیتن یاہو کے اسرائیل کی عرب جماعتوں پر حملے تیز
- اسرائیلی وزیراعظم کا عرب ووٹروں پر دھاندلی کا الزام، اشتعال انگیزی کے الزامات اٹھنے سے حکومت سازی کا عمل مزید پیچیدہ ہوگیا
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کے روز بغیر کوئی ثبوت پیش کیے الزام عائد کیا کہ رواں ہفتے ہونے والے انتخابات میں عرب جماعتوں کی ریکارڈ کامیابی کی ایک وجہ ووٹروں کی دھاندلی تھی۔ عرب رہنماؤں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ الزام نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے عرب مخالف بیان بازی میں شدت کی عکاسی کرتا ہے۔ منگل کے روز ہونے والے قومی انتخابات میں عرب ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت نے نیتن یاہو یا ان کے اہم یہودی حریفوں میں سے کسی کے لیے بھی باآسانی اقتدار حاصل کرنے کی راہ روک دی ہے۔
اسرائیلی انتخابی حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انتخابات کی شفافیت کو ’’منظم انداز میں متاثر نہیں کیا گیا‘‘۔
تجزیہ کاروں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ عرب جماعتوں پر حملوں میں شدت لا کر نیتن یاہو شاید اپنے اہم حریف گادی آئزن کوٹ کو اس حد تک دباؤ میں لانا چاہتے ہیں کہ وہ عرب جماعتوں کی مدد سے اقلیتی حکومت تشکیل دینے کے امکان پر غور کرنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ ایسی حکومت انہیں اقتدار سے ہٹا سکتی ہے۔
رائخ مین یونیورسٹی کے پروفیسر برائے سیاسیات ایٹن گلبوا نے کہا کہ نیتن یاہو کا مقصد ’’عربوں اور یہودیوں کے درمیان کسی بھی قسم کے تعاون کو ناجائز قرار دینا ہے‘‘۔
انتخابی حکام سے توقع تھی کہ وہ جمعرات کے روز ووٹوں کی گنتی مکمل کر لیں گے۔ سخت مقابلے کے بعد ہونے والے ان انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کئی ہفتوں تک طویل مذاکرات کا امکان ہے۔
تقریباً 93 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نیتن یاہو کے قوم پرست اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو آئزن کوٹ کی قیادت میں دائیں بازو اور مرکز سے بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد پر نشستوں کے لحاظ سے معمولی برتری حاصل تھی۔ تاہم، دونوں رہنماؤں کے اتحاد پارلیمان میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے سے پیچھے تھے۔
اسرائیل کی 21 فیصد عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کو ریکارڈ 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ اس صورت حال میں آئزن کوٹ کے اتحاد کے لیے عرب جماعتوں کی وسیع حمایت کے بغیر اقتدار حاصل کرنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان تھا، جبکہ نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں حاصل ہونے کی توقع تھی۔ تاہم، آئزن کوٹ اب تک عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
اس کے باوجود آئزن کوٹ کا اتحاد عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کیے بغیر، ان کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت تشکیل دینے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام، عرب رہنماؤں کا اشتعال انگیزی قرار دینے پر ردعمل
عرب جماعت جوائنٹ لسٹ کے رہنماؤں میں شامل احمد طیبی نے کہا کہ نیتن یاہو ایک منظم اور زہریلی مہم چلا رہے ہیں، جس کا مقصد انتخابی نتائج کو مشکوک بنانا ہے۔
احمد طیبی نے رائٹرز کو بتایا، ’’اس پوری مہم کا ہدف آئزن کوٹ ہیں، تاکہ انہیں جوائنٹ لسٹ یا رام جماعت کی بیرونی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے حکومت بنانے سے روکا، خوف زدہ کیا اور باز رکھا جا سکے۔‘‘
منگل کے روز ہونے والے انتخابات کے دوران اور اس کے بعد نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب ووٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں شرکت کے خلاف خبردار کیا، جبکہ ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ نے بیانات جاری کیے جن میں عرب جماعتوں پر ’’ووٹ چوری کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔
لیکوڈ نے پولیس اور داخلی انٹیلی جنس ادارے شن بیت سے مطالبہ کیا کہ عرب قصبوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی رشوت ستانی اور ووٹروں کو دھمکانے کے مشتبہ واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ جماعت کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ایسی سرگرمیوں کے شواہد موجود ہیں، تاہم اس نے یہ شواہد عوام کے سامنے پیش نہیں کیے۔
پولیس کے مطابق منگل سے اب تک اسرائیل کے جنوبی علاقے میں، جہاں بڑی تعداد میں عرب آباد ہیں، ووٹوں میں دھاندلی کے شبہے میں کم از کم سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق ان افراد پر شبہ ہے کہ انہوں نے ووٹروں کو اسلام پسند جڑیں رکھنے والی عرب اکثریتی جماعت رام کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے رشوت دینے کی کوشش کی۔
جمعرات کے روز اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوعام سولبرگ نے بتایا کہ انہوں نے شن بیت سے ان شبہات کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے کہ نامعلوم غیر ملکی عناصر نے انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔
لیکوڈ نے سولبرگ کی درخواست کو بنیاد بناتے ہوئے اسرائیل کی جمہوریت پر حملے کا الزام عائد کیا۔ جماعت کے مطابق اس کا مقصد ’’اسرائیل کو اسلامائز کرنا اور دائیں بازو کو اقتدار سے ہٹانا ہے، تاکہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی واپسی اور تمام محاذوں پر شکست کی راہ ہموار کی جا سکے، خصوصاً ایران کے معاملے میں۔‘‘
لیکوڈ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں مبینہ مداخلت کے پیچھے قطر تھا، تاہم قطر نے بعد میں اس الزام کی تردید کر دی۔
رام جماعت کے سربراہ منصور عباس نے جمعرات کے روز کہا کہ ان کی جماعت رپورٹ ہونے والی مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھی اور انہوں نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اسرائیل کے عرب شہریوں کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلا رہے ہیں۔
منصور عباس نے ایک بیان میں کہا، ’’عرب شہریوں کے خلاف ان کی جاری اشتعال انگیزی اور انہیں ناجائز قرار دینے کی مہم کے جواب میں ہمارا ایک ہی پیغام ہے: اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔‘‘
مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں، جو ایک رکنِ پارلیمان کو بھیجا گیا تھا، کمیٹی نے کہا کہ ’’انتخابات کی شفافیت کو منظم انداز میں نقصان پہنچانے کے دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘‘
اسرائیلی صدر: ’’ہمیں پوری برادری کو بدنام نہیں کرنا چاہیے‘‘
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت کریں گے اور ایسے امیدوار کا انتخاب کریں گے جن کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ حکومت بنانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔
2021ء میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے والے اتحاد نے منصور عباس کی جماعت رام کی حمایت پر انحصار کیا تھا۔ تاہم، اس بار آئزن کوٹ کی توقعات سے کم کارکردگی کے باعث حزبِ اختلاف کو اب عرب اکثریتی جوائنٹ لسٹ کی حمایت درکار ہوگی، جس میں ایک واضح طور پر صہیونیت مخالف جماعت بھی شامل ہے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد سے بیشتر یہودی رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد سے گریز کرتے رہے ہیں۔
آئزن کوٹ نے انتخابی شفافیت کے تحفظ کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم کہا کہ نیتن یاہو ان شبہات کو ’’افراتفری پھیلانے‘‘ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کا مقصد ’’سرکاری انتخابی نتائج کو چیلنج کرنا ہے، جن میں اسرائیلی عوام نے حکومت کے خلاف ووٹ دیا ہے۔‘‘
اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
تاہم، ہرزوگ نے ایک بیان میں کہا، ’’ایسے موقع پر بھی ہمیں پوری برادری کو بدنام نہیں کرنا چاہیے، جس نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے اور جمہوریت میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘


Comments