اسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا آغاز
- اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ذرائع ابلاغ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانا، معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا اور عوامی سطح پر روابط مزید گہرے کرنا ہے
پاکستان اور چین نے منگل کو اسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور (سی پی آئی سی) کا آغاز کردیا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ذرائع ابلاغ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانا، معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا اور عوامی سطح پر روابط مزید گہرے کرنا ہے۔ دونوں ممالک اس سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
پاکستان چین فرینڈشپ سینٹر میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور چین کی دوستی کی وراثت کو محفوظ بنانے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے انفارمیشن کوریڈور کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک پل قرار دیا، جو ذرائع ابلاغ، معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو جوڑنے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں کردار ادا کرے گا۔
اس اقدام میں ذرائع ابلاغ کے اداروں، تھنک ٹینکس، تعلیمی شعبے، کاروباری اداروں، جامعات اور نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے، جن میں میڈیا، کاروبار و تجارت، تھنک ٹینکس اور ثقافت، سیاحت و نوجوان شامل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ میڈیا کے شعبے کے تحت پاکستانی اور چینی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے درمیان مصدقہ خبروں کے تبادلے میں سہولت فراہم کی جائے گی اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے حقائق کی جانچ پڑتال کا نظام قائم کیا جائے گا۔ کاروباری شعبہ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو فروغ دے گا، جبکہ تھنک ٹینکس کے ذریعے مشترکہ تحقیق، مکالمے اور اشاعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے شعبے کا مقصد عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان میل جول اور تبادلوں کے مواقع بڑھانا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے دونوں ممالک کی معیشتوں کو جوڑا ہے، جبکہ انفارمیشن کوریڈور باہمی افہام و تفہیم کو مزید مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ راہداری کے تجارتی شعبے کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ یہ اقدام معلومات کے تبادلے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے گا اور ایک دوسرے کی ثقافتوں اور روایات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور دونوں ممالک کو نشانہ بنانے والے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور دیرینہ دوستی کے لیے عوامی حمایت مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گا۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے باعث درست، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور کے چاروں ستون چین پاکستان تعاون کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دوطرفہ تعلقات کو سمجھنے اور ان کی حمایت کرنے کے قابل بنائیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کی عوامی بنیاد کو بھی مضبوط کرے گا۔
سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے کہا کہ یہ کوریڈور پاکستانی اور چینی خبر رساں اداروں، نشریاتی اداروں اور فلمی تنظیموں کے درمیان پہلے سے موجود معاہدوں کو آگے بڑھائے گا۔ ان معاہدوں میں خبروں کے تبادلے، مواد کی شراکت اور مشترکہ پروڈکشن شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام معلومات، میڈیا مواد اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات سے متعلق مستند بیانیے کو فروغ دینے میں بھی مددگار ہوگا۔
تقریب میں دونوں ممالک کی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں اور ان کی دوستی کی مناسبت سے ثقافتی پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔
انفارمیشن کوریڈور کا آغاز پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد میڈیا، ثقافت، سیاحت اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔


Comments