BR100 Decreased By (-0.22%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.23%)
KSE30 Decreased By (-0.21%)
BAFL 55.70 Increased By ▲ 0.19 (0.34%)
BIPL 23.83 Decreased By ▼ -0.14 (-0.58%)
BOP 26.92 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
CNERGY 12.25 Decreased By ▼ -0.15 (-1.21%)
DFML 16.60 Increased By ▲ 0.81 (5.13%)
DGKC 176.40 Increased By ▲ 0.82 (0.47%)
FABL 88.99 Decreased By ▼ -1.02 (-1.13%)
FCCL 49.80 Increased By ▲ 0.15 (0.3%)
FFL 13.00 Decreased By ▼ -0.36 (-2.69%)
GGL 18.70 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
HBL 282.69 Decreased By ▼ -0.57 (-0.2%)
HUBC 188.09 Increased By ▲ 0.23 (0.12%)
HUMNL 8.01 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
KEL 5.66 Increased By ▲ 0.11 (1.98%)
LOTCHEM 22.48 Decreased By ▼ -0.56 (-2.43%)
MLCF 86.90 Increased By ▲ 0.27 (0.31%)
OGDC 297.39 Decreased By ▼ -0.73 (-0.24%)
PAEL 31.97 Decreased By ▼ -0.08 (-0.25%)
PIBTL 12.62 Increased By ▲ 0.07 (0.56%)
PIOC 223.45 Decreased By ▼ -0.72 (-0.32%)
PPL 209.00 Decreased By ▼ -1.17 (-0.56%)
PRL 93.85 Decreased By ▼ -0.67 (-0.71%)
SNGP 89.49 Decreased By ▼ -0.64 (-0.71%)
SSGC 22.21 Decreased By ▼ -0.31 (-1.38%)
TELE 6.65 Decreased By ▼ -0.01 (-0.15%)
TPLP 11.47 Decreased By ▼ -0.04 (-0.35%)
TRG 53.50 Increased By ▲ 0.96 (1.83%)
UNITY 7.76 Increased By ▲ 0.14 (1.84%)
WTL 0.90 Increased By ▲ 0.01 (1.12%)
اداریہ

غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی اصلاح ناگزیر

  • اس میں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر غیر متناسب بوجھ ڈالا جاتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں حاصل کردہ معاشی استحکام کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے ایک زیادہ منصفانہ، وسیع اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام اپنانے سے متعلق آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) کا مطالبہ ملک کی معیشت کی ایک دیرینہ اور مسلسل برقرار رہنے والی خامی کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ خامی ایک غیر منصفانہ ٹیکس نظام ہے، جس میں پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر غیر متناسب بوجھ ڈالا جاتا ہے، جبکہ بااثر شعبوں کو ان کے واجب الادا حصے کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس ادا کرنے کی گنجائش حاصل رہتی ہے۔

ٹیکس اصلاحات سے متعلق حالیہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے درست طور پر اس ضرورت پر زور دیا کہ ایسے شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے جہاں سے ٹیکس وصولی ان کی صلاحیت کے مقابلے میں کم ہے، ٹیکس رعایتوں کو معقول بنایا جائے اور پہلے سے ٹیکس نیٹ میں شامل افراد پر بوجھ کم کیا جائے۔ ان ساختی ناہمواریوں سے نمٹے بغیر پاکستان کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ معاشی استحکام کے حاصل کردہ فوائد اور پائیدار و جامع ترقی کی بنیادوں، دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ملک کا ٹیکس نظام تین باہم منسلک کمزوریوں کا شکار ہے: ٹیکس کی محدود بنیاد، بااثر اشرافیہ کا نظام پر غلبہ اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری، جسے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے لیے حساس ٹیکس انتظامیہ سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ تینوں کمزوریاں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے، جبکہ معیشت کے بااثر طبقات مؤثر جانچ پڑتال سے بچ نکلتے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کارپوریٹ شعبے پر محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے بار بار دباؤ ڈالا گیا ہے۔ یہ طریقہ نہ تو منصفانہ ہے اور نہ ہی پائیدار۔ یہاں بنیادی ناکامی یہ ہے کہ ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) پہلے سے دستاویزی معیشت سے باہر ہونے والی معاشی سرگرمیوں کی نشان دہی اور ان کا سراغ لگانے کے لیے خاطر خواہ مؤثر ذرائع تیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ٹیکس پالیسی میں اکثر انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے ان افراد پر ٹیکس کی شرحیں بڑھا کر ان کی تلافی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن سے ٹیکس وصول کرنا آسان ہے، بجائے اس کے کہ ان لوگوں کی نشان دہی کی جائے جنہیں ٹیکس ادا کرنا چاہیے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے منفی چکر کی صورت میں نکلتا ہے جس میں ٹیکس کا بوجھ بڑھتا ہے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی ترغیبات کمزور ہوتی ہیں اور ٹیکس قوانین کی پابندی کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بزنس ریکارڈر میں حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں معروف ماہرِ ٹیکس اور ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بنیادی مسئلہ ٹیکس انتظامیہ میں ہے۔ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کو بااختیار بنانے پر ان کی تجویز سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہے۔

1994 میں قائم ہونے والا پی آر اے ایل، ایف بی آر کو ٹیکس آٹومیشن، ڈیٹا مینجمنٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس میں آئی آر آئی ایس ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا نظام بھی شامل ہے۔ اگرچہ یہ پہلے ہی ایک علیحدہ سرکاری ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے اور اس کا اپنا خودمختار بورڈ بھی ہے، تاہم ایف بی آر کے ساتھ اس کے قریبی ادارہ جاتی تعلقات کے باعث اس کی صلاحیت پوری طرح بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔

اس کی عملی خودمختاری اور تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے سے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس کو معاشی سرگرمیوں کی نشان دہی اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے میں کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جبکہ اس عمل میں افسر شاہی کی صوابدیدی مداخلت پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔

مزید برآں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی ایک زیادہ مؤثر اور دانش مندانہ ٹیکس نظام قائم کرنے کے لیے بنیادی وسائل موجود ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جیسی بنیادی سہولت کو اگر مناسب نگرانی اور ضابطہ کار کے تحت ڈیٹا کے تبادلے کے ایسے انتظامات کے ساتھ مربوط کیا جائے جو نادرا، بینکوں، جائیداد کے ریکارڈ، یوٹیلیٹی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، کارپوریٹ ریکارڈ اور صوبائی محصولات کے حکام کو آپس میں منسلک کریں، تو معاشی سرگرمیوں کی زیادہ واضح تصویر سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے ظاہر کردہ آمدن، اثاثوں کی ملکیت، جائیداد کے لین دین اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان تضادات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے، جس سے ایسے ممکنہ ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوگی جن کے معاملات کی تصدیق ضروری ہو۔ تاہم، ایسے نظاموں میں قانونی طریقۂ کار کی پابندی، ڈیٹا کی حفاظت اور من مانے ٹیکس تخمینوں کے خلاف تحفظات کو شامل کرنا ضروری ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کا مقصد ٹیکس چوری کو مشکل بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ ٹیکس قوانین کی پابندی کو بلاامتیاز نگرانی میں تبدیل کردینا۔

آٹومیشن ٹیکس انتظامیہ کے ساتھ غیر ضروری بالمشافہ رابطوں کو محدود کرکے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی کم کرسکتی ہے۔ اگرچہ یہ اکیلے بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کرسکتی، تاہم اس سے ان مواقع کو محدود کیا جاسکتا ہے جہاں رشوت ستانی کو فروغ ملتا ہے۔ اسی طرح، ٹیکنالوجی بااثر طبقوں پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے سیاسی عدم آمادگی کا متبادل بھی نہیں بن سکتی۔

خوردہ فروشوں، تھوک فروشوں، رئیل اسٹیٹ سے وابستہ مفادات اور زرعی آمدن کو محض ٹیکس چھوٹ اور کمزور انداز میں نافذ کیے جانے والے منصوبوں کے ذریعے رعایت دینے کے بجائے ایک مؤثر اور قابلِ نفاذ نظام کے تحت لانا ضروری ہے۔ اقتدار میں موجود افراد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان بار بار اسی محدود طبقے کو نشانہ بنا کر، جو پہلے ہی ٹیکس قوانین کی پابندی کر رہا ہے، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرتے ہوئے خوش حالی حاصل نہیں کرسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے معاشی سرگرمیوں کو قابلِ شناخت بنایا جائے اور پھر ان پر منصفانہ انداز میں ٹیکس عائد کیا جائے۔

پی آر اے ایل کو اس تبدیلی کے لیے بااختیار بنانا ایک عملی نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کو ایسے ذرائع کی نشان دہی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے جہاں سے اب تک ٹیکس وصول نہیں کیا جارہا، تاکہ ان ذرائع کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جاسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف