غزہ، جنگ بندی کے بعد بھی امن ایک خواب
- معاہدے کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر اپنا فوجی کنٹرول بڑھانے کی جانب پیش رفت کی ہے
اکتوبر 2025 میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو ایک سال گزرنے کے باوجود غزہ بدستور مصائب کی لپیٹ میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1,400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان گنجان آباد بے گھر افراد کے کیمپوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں انہیں مسلسل فضائی حملوں، بیماریوں اور خوراک، صاف پانی اور ضروری ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ بحران محض جنگ بندی پر عمل درآمد میں ناکامی کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کا بنیادی مسئلہ غزہ کا علاقائی مستقبل اور وہاں کی فلسطینی آبادی کے بنیادی حقوق ہیں۔
معاہدے کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر اپنا فوجی کنٹرول بڑھانے کی جانب پیش رفت کی ہے۔ تعمیرِ نو کا عمل تعطل کا شکار ہے، انسانی امداد ضرورت کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے اور بے گھر فلسطینی اس سنگین غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں کہ آیا وہ کبھی اپنے گھروں کو واپس بھی جا سکیں گے یا نہیں۔ جس انتظام کو ایک عارضی فوجی بندوبست ہونا تھا، وہ تیزی سے ایک مستقل علاقائی حقیقت بننے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، جس سے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور حقوق سے محروم کرنے کا عمل مزید مستحکم ہو رہا ہے۔
ان خدشات کو بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے سینئر ارکان کے اعلانیہ عزائم سے تقویت ملتی ہے۔ وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ غزہ کے بتدریج الحاق، مکمل اسرائیلی کنٹرول اور یہودی بستیوں کے قیام کی حمایت کر چکے ہیں۔ جون میں انہوں نے کہا تھا کہ اس علاقے میں تین یہودی بستیوں کے قیام کے منصوبے تیار کر لیے گئے ہیں اور نیتن یاہو کی منظوری کے منتظر ہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایسے بیانات دیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی جاری رہ سکتی ہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ حکومت وہاں شہری یہودی بستیاں قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ فوجی کنٹرول میں توسیع کے ساتھ ان بیانات کو دیکھا جائے تو یہ خدشات تقویت پاتے ہیں کہ جنگ بندی کو علاقائی فوائد مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی آبادکار نوآبادیاتی نوعیت اس امکان میں پوشیدہ ہے کہ فلسطینی سرزمین پر کنٹرول کو مستحکم کیا جائے، جبکہ وہاں کی مقامی آبادی کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کی آزادی سے محروم رکھا جائے۔
اس کے اثرات غزہ سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ فلسطینی سرزمین، خودمختاری اور قومی وجود کے حوالے سے ایک وسیع تر جدوجہد کا حصہ ہیں، جس کے پس منظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور الحاق کے عزائم بھی شامل ہیں۔ طاقت کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ کرنے یا قابض طاقت کی شہری آبادی کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ تل ابیب میں بہت سے افراد کی جانب سے پیش کیے جانے والے وسیع تر گریٹر اسرائیل منصوبے کے امکان کے پیش نظر بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
امریکا، جو جنگ بندی کا بنیادی ثالث اور اسرائیل کا سب سے طاقتور بین الاقوامی اتحادی ہے، اس حقیقت سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ یہ معاہدہ بامعنی امن کی فراہمی میں ناکام رہا ہے۔ واشنگٹن کو شہریوں پر حملوں کے خاتمے، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی، اسرائیلی فوج کے انخلا اور قابلِ اعتماد بین الاقوامی نگرانی میں تعمیرِ نو کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ تاہم، امریکا کی جانب سے فیصلہ کن اقدام کی توقعات بے سود ہیں، کیونکہ واشنگٹن کے داخلی سیاسی مفادات بدستور اسرائیل کو مؤثر جواب دہی سے بچا رہے ہیں۔
غزہ کے عوام ایسے جنگ بندی معاہدے سے کہیں زیادہ کے مستحق ہیں جو ان کی سرزمین کو بڑھتے ہوئے فوجی کنٹرول میں چھوڑ دے اور ان کے مستقبل کو اسرائیلی عزائم کے رحم و کرم پر رکھ دے۔ فلسطینی مزاحمت کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ فلسطینی اپنی زمینوں سے محرومی کو مستقل حقیقت کے طور پر قبول کرنے سے مسلسل انکار کرتے آئے ہیں۔ جب تک عالمی برادری اس تنازعے کے پس پشت کارفرما علاقائی عزائم کا سامنا نہیں کرتی، سفارت کاری اس جدوجہد کو حل کرنے کے بجائے محض منجمد کر سکتی ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق سے انکار کی بنیاد پر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments