ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کے لیے پارلیمان سے اجازت لینے کا منصوبہ
- ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے منگل کو پارلیمان میں پیش کردیا
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت کے لیے پارلیمان میں قرارداد پیش کرے گا۔ حکمران جماعت اے کے پارٹی کے ایک رکن پارلیمان نے بدھ کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا۔
رکن پارلیمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کی توثیق سے متعلق بل کی منظوری کے بعد فوجی تعیناتی کی اجازت کے لیے قرارداد پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔
ترکیہ نے اگست میں تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منگل کو توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کیا تھا۔ اس پیش رفت سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ترکیہ، حوثی حملوں کا سامنا کرنے والے سعودی عرب کے ساتھ باضابطہ باہمی دفاعی عہد کے قریب آگیا ہے۔
حکمران جماعت کے رکن پارلیمان نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت دوسرے ممالک میں تعینات کیے جانے والے ترک فوجی کسی بھی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر تکنیکی عملے اور ماہرین کو فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی معاونت فراہم کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔
اس سے قبل دو عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ دفاعی معاہدے کے تحت ترکیہ کا کردار فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام کی فراہمی تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اب تک اس اتحاد کے تحت کسی اور نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں ہوئی۔
ترکیہ بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی رضامند ہوچکا ہے۔


Comments