آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے 5 اہم نکات: عالمی خطرات، مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا ابھرتا کردار
- رواں سال کے سالانہ اجلاس میں ایسے جاری مسائل پر دوبارہ توجہ مرکوز کی گئی جو پہلے ہی سست عالمی معاشی نمو کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہے ہیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے سالانہ اجلاس 2026ء، 12 سے 18 اکتوبر تک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقد ہوئے جن میں دنیا بھر سے مالیاتی وزرا، مرکزی بینکوں کے گورنرز، پالیسی ساز، سرمایہ کار اور ماہرین سمیت عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔
رواں سال کے سالانہ اجلاس میں ایسے جاری مسائل پر دوبارہ توجہ مرکوز کی گئی جو پہلے ہی سست عالمی معاشی نمو کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔ ان میں حکومتی قرضوں میں اضافہ، بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بالخصوص جاری امریکا ایران تنازع کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور اے آئی کا ابھرتا ہوا کردار شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی سالانہ اجلاسوں میں اپنی موجودگی مؤثر انداز میں پیش کی اور حال ہی میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو اجاگر کرتے ہوئے معاشی اصلاحات کے اپنے ایجنڈے کو فروغ دیا۔
سالانہ اجلاس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
5۔ عالمی خطرات بدستور سنگین ہیں
سالانہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور توانائی قیمتوں میں اچانک اضافے، خودمختار قرضوں میں بڑھتے حجم اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے جیسے مسائل چھائے رہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ یہ خطرات عالمی معاشی نمو اور مالی استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں۔
رکن ممالک نے جنگوں اور توانائی کی بلند قیمتوں کے منفی اثرات کے باعث قلیل مدتی مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنے والے ممالک کے لیے معاونت بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ معاشی خطرات کا جھکاؤ بدستور منفی سمت میں ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹرنگ اور فنانشل کمیٹی کے چیئرمین اور سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تنازعات میں شدت اور تجارتی کشیدگی میں اضافہ اہم تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا کرسکتا ہے، بہتر شدہ توانائی مصنوعات سمیت اجناس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور توانائی و غذائی تحفظ کی صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
4۔ اے آئی کا ابھرتا ہوا کردار
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا تیزی سے ابھرتا ہوا کردار سالانہ اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہا جہاں فیصلہ سازوں نے اس سے پیدا ہونے والے خدشات اور مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے سالانہ اجلاس کے دوران کہا کہ عالمی معیشت کی لچک، اے آئی کے امکانات اور ایشیا کی تیز رفتار ترقی امید افزا پہلو ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے ساتھ مہنگائی، قرضوں کی بلند سطح، جنگیں اور موسمیاتی خطرات بھی تشویش کا باعث ہیں۔
دوسری جانب اینتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں تیزی سے بہتری تمام شعبوں میں کہیں زیادہ تیز رفتار تبدیلیوں کا باعث بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں، لیکن ٹیکنالوجی میں مسلسل بہتری سے یہی اشارہ ملتا ہے۔ اگر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اس قدر اضافہ ہونا ہے تو معاشی نظریات کے مطابق اتنی بڑی معاشی توسیع کو ممکن بنانے کے لیے نئی صنعتوں اور ایجادات کا سامنے آنا ضروری ہوگا۔
3۔ پاکستان کی ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی معاونت کے حصول کے لیے کوششیں
سالانہ اجلاس کے دوران پاکستان نے عالمی بینک کی ضمانتوں اور کثیرالجہتی سرمایہ کاری ضمانتی ایجنسی (میگا) کی معاونت کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کے ممکنہ انتظام پر بات چیت کی۔ تاہم، یہ تجویز ضمانتی سہولت کی دستیابی، لین دین کے ڈھانچے اور مزید منظوریوں سے مشروط ہے۔
2۔ پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کو اجاگر کرنا
سالانہ اجلاسوں کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی)، جے پی مورگن، سٹی گروپ، اسلامی ترقیاتی بینک، موڈیز اور فچ ریٹنگز سمیت عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں سے حکومتی معاشی ٹیم کو معاشی اصلاحات کے اپنے ایجنڈے کو اجاگر کرنے، متبادل ذرائع سے مالی معاونت کے حصول کی کوششیں آگے بڑھانے اور کثیرالجہتی مالیاتی اداروں میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ملا۔
1۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں میں دو اہم عہدے حاصل
آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت کے حامل رہے، کیونکہ اس دوران ملک کو اہم عہدوں کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
پاکستان کو 2027ء میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان 1953ء کے بعد پہلی بار اس منصب پر فائز ہوگا۔
وزارتِ اقتصادی امور نے ایک بیان میں کہا کہ آئندہ صدارت پاکستان کو عالمی معیشت اور ترقی سے متعلق مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے اور کثیرالجہتی نظام کے لیے ایک اہم مرحلے پر رکن ممالک کے درمیان تعمیری مکالمے کو فروغ دینے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے بورڈز آف گورنرز ان دونوں بڑے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے ہیں۔ یہ رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں اور تنظیموں کی مجموعی پالیسی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
اسی طرح وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی صدارت بھی سنبھال لی ہے۔ ان کی ترجیحات میں قرضوں کے بہتر انتظام، اصلاحات کے تجربات کے تبادلے اور ترقیاتی مالی معاونت کے نئے ذرائع تلاش کرنا شامل ہیں۔
قرض لینے والے ممالک کا پلیٹ فارم ایک بین الاقوامی اقدام ہے جس کی قیادت رکن ممالک کرتے ہیں۔ یہ ترقی پذیر ممالک کو خودمختار قرضوں سے متعلق مسائل پر رابطہ کاری، معلومات اور تجربات کے تبادلے اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے ایک مخصوص فورم فراہم کرتا ہے۔


Comments