ایک ملک مختلف ضوابط
- وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان میں کاروباری ضوابط کے وسیع نظام کو ایک جامع ریگولیٹری رجسٹری کے تحت لانے اور ملک بھر میں ان میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنے کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے
وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان میں کاروباری ضوابط کے وسیع نظام کو ایک جامع ریگولیٹری رجسٹری کے تحت لانے اور ملک بھر میں ان میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنے کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔
کاروباری ادارے ایک طویل عرصے سے ایسے متضاد تقاضوں، مختلف طریقۂ کار اور ضوابط سے نمٹنے پر مجبور ہیں جنہیں ایسے حکام نافذ کرتے ہیں جو بسا اوقات اس بات سے بھی بے خبر دکھائی دیتے ہیں کہ حکومت کا کوئی دوسرا شعبہ کیا کر رہا ہے۔ اگر اسے درست طریقے سے نافذ کیا گیا تو ایک متحد ریگولیٹری نظام پاکستان میں کاروبار کرنے کی راہ میں حائل سب سے مستقل اور غیر ضروری رکاوٹوں میں سے ایک کو دور کر سکتا ہے۔
اس اقدام کا دائرہ کار حوصلہ افزا ہے۔ کابینہ کی ریگولیٹری اصلاحات کمیٹی نے سات شعبوں میں 557 اصلاحات کی منظوری دی ہے، جن کے ذریعے حکومت کے تخمینے کے مطابق کاروباری اداروں کو سالانہ 460 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ایزی بزنس ایکٹ پر عمل درآمد، صوبائی حکومتوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی اور موجودہ ریگولیٹری تقاضوں، قواعد اور ضوابط کو ایک ہی نظام میں یکجا کرنے والی رجسٹری کے قیام کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ دانش مندانہ اقدامات ہیں، کیونکہ ضوابط کی پیچیدگی کی حقیقی معاشی قیمت ہوتی ہے، چاہے یہ لاگت ٹیکس کے کسی بل میں واضح طور پر درج نہ ہو۔
پاکستان کا مسئلہ شاذ و نادر ہی قواعد کی کمی رہا ہے۔ کاروباری اداروں کو وفاقی، صوبائی اور مقامی حکام، لائسنس کے تقاضوں، منظوریوں، رجسٹریشن اور ایسے طریقۂ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہو سکتے ہیں یا ان میں تضاد پایا جا سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال انتظامی وقت ضائع کرتی ہے، تعمیل کے اخراجات بڑھاتی ہے اور قواعد کی من مانی تشریح کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ اس کا خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں پر زیادہ منفی اثر پڑتا ہے، کیونکہ ان کے پاس بڑے کاروباری اداروں کی طرح بیوروکریسی سے نمٹنے کے لیے قانونی، انتظامی اور مالی وسائل موجود نہیں ہوتے۔
لہٰذا ضوابط میں زیادہ یکسانیت حکومت کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق بچت سے کہیں زیادہ فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے والے کاروباری ادارے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سے قواعد لاگو ہوتے ہیں، ان پر عمل درآمد کس ادارے کی ذمہ داری ہے، منظوریوں میں کتنا وقت لگنا چاہیے اور آیا یہی تقاضے آئندہ بھی برقرار رہیں گے یا نہیں۔
ایک جامع ریگولیٹری رجسٹری اس حوالے سے وضاحت فراہم کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے ایک مستند اور باقاعدگی سے تازہ کی جانے والی معلومات کے ذریعے بنایا جائے، نہ کہ اسے پہلے سے انتظامی طور پر بوجھل حکومتی نظام میں ایک اور پورٹل کے اضافے تک محدود رکھا جائے۔
صوبوں کے درمیان نظام کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ ناگزیر طور پر حکومت کی مختلف سطحوں کو ان کی متعلقہ آئینی ذمہ داریاں دیتا ہے، اس لیے ریگولیٹری اصلاحات میں ان حدود کا احترام کرنا ضروری ہے۔
تاہم وفاقی نظام کا مطلب یہ نہیں کہ کاروباری اداروں کو صوبائی سرحد عبور کرتے ہی طریقۂ کار میں ایسی غیر ضروری عدم مطابقت کا سامنا کرنا پڑے جس سے بچا جا سکتا ہو۔ مشترکہ معیارات، ایک دوسرے سے مربوط نظام اور باہمی ہم آہنگی پر مبنی طریقۂ کار جائز صوبائی اختیارات برقرار رکھتے ہوئے دہرے کام اور غیر ضروری تکرار کو کم کر سکتے ہیں۔
لہٰذا خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مجوزہ رابطوں میں انتظامی اختیارات کو مرکز میں جمع کرنے کے بجائے عملی ہم آہنگی پر توجہ دینی چاہیے۔
تاہم وزیراعظم کی ہدایات کا سب سے اہم پہلو ان پر عمل درآمد اور آزادانہ تصدیق سے متعلق ہے۔ پاکستان میں اصلاحات کے اعلانات کی پہلے ہی کوئی کمی نہیں، جن کے فوائد پیشکشوں اور بریفنگز میں تو خاصے بہتر دکھائی دیتے تھے، لیکن عملی طور پر ان کے نتائج اتنے اچھے ثابت نہیں ہوئے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ 557 اصلاحات سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ یہ ایک بڑا دعویٰ ہے اور اب اسے ایک قابلِ پیمائش معیار بننا چاہیے۔ تیسرے فریق کی جانب سے آزادانہ تصدیق کے ذریعے یہ طے کیا جانا چاہیے کہ ان بچتوں کا حساب کیسے لگایا گیا اور بعد ازاں یہ بھی جانچا جائے کہ آیا کاروباری اداروں کو حقیقتاً ان کا فائدہ پہنچ رہا ہے یا نہیں۔
اسی اصول کا اطلاق بزنس فیسلیٹیشن سینٹرز پر بھی ہونا چاہیے۔ ہزاروں درخواستوں پر کارروائی کرنا یقیناً مفید ہے، لیکن زیادہ بامعنی پیمانے درخواستوں پر کارروائی میں لگنے والا وقت، مطلوبہ منظوریوں میں کمی، تعمیل کے اخراجات، درخواستیں مسترد ہونے کی شرح اور خود کاروباری اداروں کی رائے ہوں گے۔
وزارتوں کو پہلے سے دی گئی عمل درآمد کی آخری تاریخوں کا پابند بھی بنایا جانا چاہیے، جبکہ پیش رفت باقاعدگی سے شائع کی جائے تاکہ تاخیر اور ادارہ جاتی مزاحمت بیوروکریسی کے اندر چھپ کر نہ رہ جائے۔
حکومت نے ایک حقیقی مسئلے کی نشان دہی کی ہے اور بظاہر اس سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ اعتبار طریقہ تجویز کیا ہے۔ منتشر ضوابط کو ایک قابلِ رسائی نظام میں یکجا کرنا، ان میں تضادات کم کرنا اور مختلف انتظامی دائرہ ہائے اختیار میں طریقۂ کار کو ہم آہنگ کرنا کاروباری ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
اب نجی شعبے کو مسلسل اس عمل میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ یہ نشان دہی کی جا سکے کہ اصلاحات کہاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور کن مقامات پر ضابطہ جاتی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
کم از کم اس بار حکومت کے دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کو ایک ہی ضابطہ نامہ پڑھنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بیوروکریسی واقعی اسے کھول کر پڑھتی بھی ہے یا نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments