انڈونیشیا کے صدر کا جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے غیر ملکی امداد قبول کرنے کا فیصلہ
- گزشتہ ماہ ملائیشیا نے آگ پر قابو پانے میں مدد کے لیے تین ہیلی کاپٹر، ایک طیارہ اور 52 اہلکار بھیجنے کی پیشکش کی تھی
انڈونیشیا نے ایک دہائی سے زائد عرصے کی بدترین جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے پڑوسی ممالک کی امداد قبول کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے بیرونی امداد کی منظوری دے دی ہے۔
شدید جنگلاتی آگ کے باعث لاکھوں افراد سانس کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں، جبکہ دھوئیں کی گہری تہہ پڑوسی ممالک تک پھیل گئی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں ملائیشیا اور مشرقی تیمور میں اسکول بھی بند کرنا پڑے ہیں۔
گزشتہ ماہ ملائیشیا نے آگ پر قابو پانے میں مدد کے لیے تین ہیلی کاپٹر، ایک طیارہ اور 52 اہلکار بھیجنے کی پیشکش کی تھی، تاہم اس کے بعد اس معاملے پر مزید پیش رفت نہیں ہوئی۔ دھوئیں سے شدید متاثر ہونے والے ایک اور پڑوسی ملک سنگاپور نے بھی امداد فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
وزیر خارجہ ارماناتھا ناصر نے جمعے کو وزارت کی جانب سے جاری کردہ ریکارڈنگ کے مطابق بتایا کہ صدر امداد کی منظوری دے چکے ہیں اور انڈونیشیا کے قومی ادارے برائے آفات سے نمٹنے (بی این پی بی) میں تکنیکی سطح پر اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔
ادارے کے نئے سربراہ، جنہیں جمعرات کو تعینات کیا گیا نے کہا ہے کہ وہ امداد کی مختلف پیشکشوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور فیصلہ کریں گے کہ کن اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہے۔
سنگاپور اور ملائیشیا کے قریب واقع جزائر سماٹرا اور بورنیو جنگلاتی آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں آگ پیٹ کی وسیع دلدلی زمینوں کی سطح کے نیچے دھیرے دھیرے سلگتی رہتی ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔
مشرقی جاوا کے قومی پارک ماؤنٹ برومو تک بھی آگ پھیل گئی، جہاں آگ بجھانے کی کارروائیوں میں مصروف چار افراد ہلاک ہوگئے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق مزید دو افراد شدید جھلسنے کے باعث زیرِ علاج ہیں۔


Comments