امریکا کی پابندیوں میں نرمی کی کوششیں، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.39 ڈالر یا 1.31 فیصد کمی کے بعد 104.67 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں جمعرات کو ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں سے رسد کو لاحق خطرات اور امریکی حکومت کی جانب سے تیل کی ترسیل کے اخراجات کم کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی کی کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.39 ڈالر یا 1.31 فیصد کمی کے بعد 104.67 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 1.02 ڈالر یا 1.07 فیصد گر کر 94.07 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ اس طرح گزشتہ سیشن میں ہونے والا اضافہ بھی ختم ہوگیا۔
گزشتہ سیشن کے دوران ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جس کی وجہ حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملہ اور ایران کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان تھا۔
سمندری حکام کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب دو الگ واقعات میں ایک کنٹینر بردار جہاز اور ایک خشک مال بردار جہاز بھی حملوں کے بعد ڈوب گئے۔ گزشتہ 10 روز کے دوران اس آبی گزرگاہ کے اطراف حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثنا، امریکی حکومت روس، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک سے تیل لے جانے والے نام نہاد شیڈو فلیٹ جہازوں پر پابندیوں میں نرمی پر غور کر رہی ہے تاکہ ترسیلی اخراجات اور قیمتوں کو کم کیا جاسکے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق، روس کی خام تیل کی پیداوار ستمبر میں یومیہ 65 ہزار بیرل بڑھ کر 84 لاکھ 30 ہزار بیرل ہوگئی، تاہم یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اب بھی یومیہ 8 لاکھ 70 ہزار بیرل کم ہے۔
ادھر امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں ایک کروڑ 11 لاکھ بیرل کی نمایاں کمی ہوئی، جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم، اس خبر کے باوجود قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار موجودہ سطح پر مزید خریداری سے محتاط ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے سرکاری اعداد و شمار جمعرات کو جاری کیے جائیں گے۔


Comments