اسرائیلی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملے کا ارادہ نہیں، نیتن یاہو
- اسرائیلی وزیرِاعظم کا انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا ارادہ نہیں، تاہم تہران اور اس کے اتحادی گروہوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ایران پر پیشگی حملے کے حق میں نہیں، تاہم انہوں نے تہران اور اس کے اتحادی گروہوں کو اسرائیل پر حملوں کے خلاف خبردار بھی کیا۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے، انتخابات سے قبل پیشگی حملے کے امکان اور سیاسی حریفوں کے ان الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ وہ انتخاب سے پہلے فوجی تصادم چاہتے ہیں، نیتن یاہو نے کہا، ’’یہ ہمارے لیے مناسب نہیں، یہ اچھا نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اگر ایران ہم پر میزائل بھی داغتا ہے تو اس کا الزام بھی مجھ پر ہی آئے گا۔‘‘ تاہم، انہوں نے ایران کو پہلے دی گئی تنبیہات دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے انتخابات کے بعد پیشگی حملے کے امکان یا ایران کے معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری سے جنگ جاری ہے، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جون کے بعد سے فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔
اسرائیل کی جانب سے یمن کے حوثیوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد کرنے سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے کہا، ’’میں ان معاملات میں نہیں پڑتا۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے ممالک ہماری بڑی کامیابی اور غیر معمولی کامرانیوں کے بعد ہم سے رجوع کر رہے ہیں۔‘‘
سعودی عرب کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں ہفتے کو ریاض کے ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے اتحادی گروہ بھی اسرائیلی انتخابات سے قبل اسرائیل پر حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں اس علاقے سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں اسرائیلی فوج نے یک طرفہ طور پر قائم کردہ سکیورٹی زون پر قبضہ کر رکھا ہے، لبنانی گروہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملوں کے خلاف خبردار کیا۔
کاٹز نے کہا، ’’حزب اللہ کو شدید دھچکا پہنچایا جائے گا اور جنوبی لبنان کے نبطیہ اور دریائے لیتانی کے علاقوں میں اس کے زیرِ قبضہ مزید علاقے چھین لیے جائیں گے، جو اسرائیل کے مستقل سکیورٹی زون کا حصہ بن جائیں گے۔ اسرائیلی دفاعی افواج اس کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘‘
کاٹز نے کہا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں 10 لاکھ افراد بے گھر ہوں گے اور بیروت میں حزب اللہ کا مضبوط گڑھ بھی حملوں سے محفوظ نہیں رہے گا۔
اسرائیل نے رواں سال ایران کے ساتھ جنگ کے متوازی جنوبی لبنان میں فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی تھی۔ اس سے قبل حزب اللہ نے تہران پر حملوں کے جواب میں اسرائیل پر حملے کیے تھے۔
لڑائی کے باعث لبنان کی شیعہ برادری کے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، جنہیں حزب اللہ کی حمایت کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔


Comments