پرانے دعوے، نئے ٹیرف
- ڈسکوز کے 415 ارب روپے کے سابقہ واجبات کے دعوے جانچ پڑتال کے متقاضی، نیپرا اعتراضات کے مدلل جواب اور صارفین پر اضافی بوجھ کی واضح نشاندہی یقینی بنائے
پاکستان کی بجلی کی دس تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے 2027 کے لیے اپنے بجلی کے نرخوں کی منظوری طلب کی ہے۔ ان درخواستوں میں گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹس (پی وائی اے) بھی شامل ہیں، جن کے تحت کمپنیاں ایسی سابقہ رقوم کی وصولی کا دعویٰ کر رہی ہیں جو، ان کے مطابق، وہ پہلے وصول نہیں کر سکیں۔
ان دعوؤں کی مجموعی مالیت تقریباً 415 ارب روپے بنتی ہے۔ اگر کمپنیوں کی جانب سے طلب کردہ سالانہ مارجن بھی اس میں شامل کر لیا جائے اور بجلی کی خریداری کی لاگت کو الگ رکھا جائے تو مجموعی مطالبہ تقریباً 949 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
اگر نیپرا نے ان رقوم کی منظوری کمپنیوں کی درخواستوں کے مطابق دے دی تو یہ بوجھ محض کمپنیوں کے کھاتوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ بجلی کے نرخوں میں شامل کر دیا جائے گا، جس کی ادائیگی گھریلو صارفین، دکان داروں اور صنعتی اداروں کو کرنا پڑے گی۔
بعض کمپنیوں کے سابقہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹس کے دعوے ان کے اپنے مجوزہ مارجن کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹس کی مد میں 157.9 ارب روپے طلب کیے ہیں، جو رواں سال کے لیے اس کے مجوزہ مارجن سے تقریباً دو گنا ہیں۔ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) نے 32 ارب روپے کے مارجن کے مقابلے میں 36.3 ارب روپے کی طلب پیش کی ہے، جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کا یہ دعویٰ اس کے مجوزہ مارجن کے تقریباً 90 فیصد کے برابر ہے۔
سادہ حساب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک کمپنی کے دعوے کی پوری رقم ایک ہی سال میں صارفین سے وصول کی جائے تو آئیسکو اور سیپکو کے صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی کی اضافی لاگت تقریباً 13 روپے ہو سکتی ہے۔ وصولی کو کئی برسوں میں تقسیم کرنے سے فی یونٹ اضافی لاگت تو کم ہو جائے گی، تاہم مجموعی بوجھ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔

درخواستوں کا جائزہ لیا جائے تو چند طرح کے دعوے بار بار سامنے آتے ہیں۔
ان میں سے بعض محض حسابی اندراجات ہیں، ایسی رقوم نہیں جو حقیقتاً ادا کی گئی ہوں۔ آئیسکو نے 48 ارب روپے کے ایکچوریل نقصانات شامل کیے ہیں، جو پنشن کی مستقبل کی ذمہ داریوں کے تخمینے پر مبنی ہیں۔ فیسکو نے 11 سال کے پنشن اخراجات کی تلافی کے لیے 14.4 ارب روپے طلب کیے ہیں۔ سیپکو کے پنشن اخراجات ایک ہی سال میں دگنے ہو کر 6.5 ارب روپے سے بڑھ کر 13.3 ارب روپے ہو گئے۔ ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) کی درخواست میں بظاہر ایک ہی مد میں تقریباً 6.5 ارب روپے کے ایکچوریل اخراجات دو مرتبہ شامل کیے گئے ہیں؛ ایک بار مارجن میں اور دوسری مرتبہ گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹ میں۔
بعض دعوے ایسے ٹیکسوں سے متعلق ہیں جو کمپنیاں خود ادا کرتی ہیں۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 2016 سے واجب الادا کم از کم ٹیکس اور ٹرن اوور ٹیکس کی مد میں 20.1 ارب روپے طلب کیے ہیں۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے ٹرن اوور ٹیکس اور اس کے تصفیے کے لیے 14.6 ارب روپے مانگے ہیں۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے سات برس کے دوران ادا کیے گئے ان پٹ ٹیکس کی مد میں 32.6 ارب روپے کا دعویٰ کیا ہے، جو اس کے گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹ کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ ہے۔
یہ سوال بالکل بجا ہے کہ آیا کسی کمپنی کے اپنے ٹیکسوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جانا چاہیے۔ اس سوال کا فیصلہ کرنے کے لیے متعلقہ ریگولیٹر ہی درست فورم ہے۔

بعض دعوے ایسے بلوں سے متعلق ہیں جن کی وصولی نہیں ہو سکی، یا بجلی کی فروخت کے نتائج طے شدہ منصوبے سے مختلف رہے۔ سیپکو نے تاخیر سے ادائیگی پر سرچارج کی مد میں 31.8 ارب روپے کی کمی کا دعویٰ کیا ہے، جو اس کے مجموعی ایڈجسٹمنٹ کا تقریباً 88 فیصد بنتا ہے۔ درخواست میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ دعویٰ بجلی کے خریدار ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک ہی ایڈوائس پر مبنی ہے۔
میپکو نے تین برس کے دوران فروخت کے تناسب میں فرق کے باعث 31 ارب روپے طلب کیے ہیں، جبکہ لیسکو نے ناقابلِ وصول قرضوں کو کھاتوں سے خارج کرنے کے لیے 17.2 ارب روپے مانگے ہیں۔ جو صارفین اپنے بل بروقت ادا کرتے ہیں، وہ بجا طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ انہیں ان صارفین کے واجبات کا بوجھ کیوں اٹھانا چاہیے جنہوں نے ادائیگیاں نہیں کیں۔
بعض دعوؤں کا نیپرا پہلے ہی جائزہ لے چکا ہے، جبکہ کچھ سرکاری ملکیت کے اداروں کے درمیان مالی معاملات سے متعلق ہیں۔ فیسکو نے 6.2 ارب روپے کے ضمنی چارجز بھی شامل کیے ہیں، جنہیں اتھارٹی پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ ٹیسکو نے کئی برس کے وہیلنگ چارجز کی مد میں 11.7 ارب روپے طلب کیے ہیں، جو پیسکو کو ادا کیے جانے ہیں، جبکہ پیسکو بھی ایک سرکاری کمپنی ہے۔ اسی طرح فیسکو نے واپڈا سے قابلِ وصول رقم کی مد میں 5.3 ارب روپے شامل کیے ہیں، جو ایک بار پھر سرکاری اداروں کے درمیان مالی معاملہ ہے۔
ان تمام رقوم کو جمع کیا جائے تو درخواستوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مدات میں تقریباً 423 ارب روپے کے دعوے ایسے ہیں جن کی صحت پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک تجزیہ کار کا جائزہ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ ممکن ہے کہ متعلقہ دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد ان میں سے بعض رقوم کے دعوے درست ثابت ہو جائیں۔
ان درخواستوں میں کچھ خامیاں بھی مشترک ہیں۔ دعوے اکثر ایک بڑی مجموعی رقم کی صورت میں پیش کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں درست اور کمزور مدات ایک ساتھ شامل ہو جاتی ہیں۔ ان کے حق میں دستاویزی ثبوت ناکافی ہیں؛ کہیں ضمیمے موجود نہیں، کہیں ایکچوریل حسابات کے مفروضے ظاہر نہیں کیے گئے اور کہیں سال بہ سال تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ کئی کمپنیاں کسی پورے دعوے کو کاروبار کے ایک ہی شعبے، مثلاً بجلی کی فراہمی، کے کھاتے میں ڈال دیتی ہیں، مگر اس کی وجہ واضح نہیں کرتیں۔
آئیسکو کے معاملے میں جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ دعوے کا سب سے بڑا حصہ نجکاری کے طے شدہ شیڈول سے متعلق خط و کتابت کے نتیجے میں سامنے آیا۔ اس سے کسی کے ارادوں کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوتا، اور نہ ہی یہاں کسی بدعنوانی یا نامناسب طرزِ عمل کا اشارہ دیا گیا ہے۔ تاہم، پرانے مالی واجبات کے اتنے بڑے تصفیے کی منظوری دینے سے پہلے ریگولیٹر کے لیے اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
کمپنیوں کے ساتھ بھی منصفانہ برتاؤ ہونا چاہیے۔ انہیں دعوے پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور حقیقی اخراجات کی وصولی بھی ہونی چاہیے۔ ان میں سے بہت سے دعوے مکمل یا جزوی طور پر درست ثابت ہو سکتے ہیں۔ حتمی فیصلہ نیپرا نے کرنا ہے اور اس کی عوامی سماعتوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ دعوؤں کو کھلے عام جانچا جا سکے۔ تشویش صرف یہ ہے کہ موجودہ درخواستوں میں اتنے زیادہ سوالات جواب طلب ہیں کہ تمام رقوم کی یک مشت منظوری دینا مناسب نہیں ہوگا۔
اعتراضات کے جواب ضروری ہیں
درخواستوں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اعتراضات جمع کرانے والے متعلقہ فریق یہ کام اپنے خرچ پر کرتے ہیں، اور اکثر انہیں برسوں کا عملی تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، نیپرا کے حتمی فیصلوں میں ان کے اعتراضات عموماً چند سطروں کے خلاصے اور مختصر جواب تک محدود رہتے ہیں۔ وہ فیصلے میں درج تو ہوتے ہیں، مگر شاذ ہی انہیں سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے؛ گویا وارنٹی کارڈ پر درج سوالات اور جوابات ہوں۔
نیپرا کے پاس اس سے بہتر کام کرنے کے لیے درکار علم اور ادارہ جاتی ساکھ موجود ہے۔ ہر اہم اعتراض کا مدلل جواب دیا جانا چاہیے، جس میں واضح ہو کہ کس پہلو کا جائزہ لیا گیا، کیا نتیجہ اخذ ہوا اور اعتراض کو قبول یا مسترد کرنے کی کیا وجہ تھی۔ اس کا مقصد ہر اعتراض کرنے والے سے اتفاق کرنا نہیں، بلکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ ہر اعتراض کو سنجیدگی سے پرکھا گیا۔ اس طرح صارفین کو یقین ہوگا کہ ان کی کوشش رائیگاں نہیں گئی، کمپنیوں کو معلوم ہوگا کہ ان سے کس نوعیت کے ثبوت درکار ہیں، اور اتھارٹی کے فیصلوں کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔
اس سلسلے میں چند اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر دعوے کی الگ الگ، متعلقہ شواہد کی بنیاد پر جانچ کی جائے۔ ایکچوریل رپورٹس، ٹیکس کے تعین سے متعلق دستاویزات، انوائسز اور مالی حسابات کی تطبیق کی تفصیلات عام کی جائیں۔
نقصانات، وصولیوں اور اخراجات میں اضافے کو نیپرا کے اپنے مقررہ معیارات کے مطابق جانچا جائے، جبکہ دو بار شمار کی گئی یا پہلے ہی مسترد شدہ رقوم کو نکال دیا جائے۔ متعلقہ فریقوں کے ہر اہم اعتراض کا حتمی فیصلے میں محض خلاصہ درج کرنے کے بجائے مدلل جواب دیا جائے۔ جانچ پڑتال کے بعد جو رقوم درست ثابت ہوں، انہیں بتدریج وصول کیا جائے اور فی یونٹ بجلی کے نرخ پر ان کے اثرات بھی واضح طور پر بتائے جائیں۔
ریگولیٹر کی اصل اہمیت اسی میں ہے کہ وہ دعوؤں کو صارفین کے بلوں کا حصہ بننے سے پہلے پرکھے۔ اگر 415 ارب روپے کی منظوری مناسب جانچ پڑتال کے بغیر دے دی گئی تو اس کی قیمت ہر گھر اور کارخانے کے ماہانہ بجلی کے بل میں وصول کی جائے گی، اور یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہے گا جب سماعت کا کمرہ خالی ہو چکا ہوگا۔ سوالات اب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان کے جوابات اور ان کی تائید میں دستاویزات بھی ریکارڈ پر ہونی چاہییں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments