BR100 Increased By (0.38%)
BR30 Increased By (0.48%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 55.94 Increased By ▲ 0.75 (1.36%)
BIPL 24.52 Increased By ▲ 0.07 (0.29%)
BOP 28.58 Decreased By ▼ -0.24 (-0.83%)
CNERGY 12.55 Increased By ▲ 0.26 (2.12%)
DFML 16.24 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 181.90 Increased By ▲ 0.02 (0.01%)
FABL 91.55 Increased By ▲ 0.16 (0.18%)
FCCL 51.80 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 13.94 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 18.99 Increased By ▲ 0.93 (5.15%)
HBL 287.95 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 191.90 Decreased By ▼ -0.58 (-0.3%)
HUMNL 9.13 Decreased By ▼ -0.27 (-2.87%)
KEL 5.95 Increased By ▲ 0.10 (1.71%)
LOTCHEM 26.35 Increased By ▲ 0.29 (1.11%)
MLCF 89.82 Decreased By ▼ -0.24 (-0.27%)
OGDC 297.81 Decreased By ▼ -1.15 (-0.38%)
PAEL 33.59 Increased By ▲ 0.09 (0.27%)
PIBTL 13.72 Decreased By ▼ -0.05 (-0.36%)
PIOC 230.50 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PPL 216.90 Decreased By ▼ -0.53 (-0.24%)
PRL 97.80 Increased By ▲ 4.61 (4.95%)
SNGP 89.51 Decreased By ▼ -0.22 (-0.25%)
SSGC 22.60 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.06 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
TPLP 11.90 Decreased By ▼ -0.20 (-1.65%)
TRG 57.22 Increased By ▲ 3.28 (6.08%)
UNITY 8.76 Increased By ▲ 0.08 (0.92%)
WTL 0.98 Increased By ▲ 0.02 (2.08%)
کاروبار اور معیشت

کیش لیس مہم: ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سخت نگرانی اور ٹیکس اصلاحات کا فیصلہ

  • وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام نے گزشتہ ایک سال کے دوران اہم سنگ میل عبور کیے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام کو تیز کرنے کیلئے فعال ڈیجیٹل ادائیگی صارفین اور تاجروں کی تعریفوں کو مزید سخت کرنے اور ٹیکس پالیسی میں اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال الیکٹرانک ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ پر غور کے لیے فنانس ڈویژن میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق رواں سال کے کیش لیس پاکستان ڈیش بورڈ کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اقدام کے اگلے مرحلے کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کے کیش لیس پاکستان اقدام نے گزشتہ ایک سال کے دوران اہم سنگ میل عبور کیے ہیں جو ڈیجیٹل معیشت کی جانب نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس تبدیلی میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار توسیع نے اہم کردار ادا کیا، گزشتہ مالی سال الیکٹرانک ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد چار گنا بڑھ گئی۔ اسی دوران سرکاری شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں اپنے سروس سینٹرز پر 99 فیصد ادائیگیوں کو کامیابی سے ڈیجیٹلائز کردیا ہے جبکہ پاسپورٹ مراکز پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کردی گئی ہے جس سے لاکھوں افراد کے لیے شناختی اور انتظامی امور کو آسان بنایا جارہا ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی عکاسی کرتے ہوئے حکومت نے مرکزی اداروں اور خود حسابات مرتب کرنے والے اداروں میں تقریباً 75 فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کی قبولیت کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔

اجلاس میں تین بنیادی اشاریوں پر غور کیا گیا جن میں ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنے والے فعال اور منفرد صارفین کی تعداد، سالانہ ڈیجیٹل لین دین کی تعداد اور ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد شامل ہیں۔ شرکا نے ہر اشاریے کی افادیت اور کیش لیس پاکستان کے لیے اس کی اہمیت کا جائزہ لیا جبکہ استعمال، سرگرمی اور صارفین کی انفرادیت کے تعین کے لیے مختلف تعریفوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی نے فعال ایپ صارفین، فعال تاجروں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منفرد صارفین کی تعریفوں کا جائزہ لینے اور انہیں حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت نے کمیٹی کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کے ذریعے کیش لیس پاکستان کے فروغ کے لیے سفارشات مرتب کریں جن کا بعد میں جائزہ لیا جائے گا۔

وزیرمملکت نے حکومت کے کیش لیس پاکستان ایجنڈے پر پیشرفت کی رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اقدام کا مقصد عوام کے لیے سہولتیں بڑھانا، شفافیت کو فروغ دینا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور مالی شمولیت کو مضبوط بنانے کیلئے ریگولیٹری اداروں، مالیاتی اداروں، فن ٹیک کمپنیوں اور وسیع تر نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں فنانس ڈویژن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن (ایم او آئی ٹی ٹی)، نادرا اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

نجی شعبے کی جانب سے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے چیئرمین، ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر، جاز کیش کے چیئرمین اور بینک الفلاح کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت جے ایس بینک، کارنداز پاکستان اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی صنعت کے دیگر نمایاں اداروں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔

وزیر مملکت نے کیش لیس پاکستان اقدام کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔

Comments

200 حروف