مقدس گائیں اور سکڑتا ہوا معاشی کیک
- مقدس گائیں بدستور بڑی حد تک احتساب اور ٹیکس سے محفوظ ہیں، جبکہ پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل افراد سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ بڑھتا ہوا بوجھ اٹھاتے رہیں گے
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت چوتھے جائزے کے نتیجے میں توقع کے مطابق اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کوئی غیر معمولی پیش رفت نہیں۔
پروگرام بدستور طے شدہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مزید 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم معیشت کو مستحکم کرنے کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد منصوبہ اب بھی موجود نہیں۔ پروگرام کی مدت تقریباً ایک سال میں ختم ہونے والی ہے لیکن پائیدار معاشی خودمختاری حاصل کرنے کے بجائے ایک اور آئی ایم ایف پروگرام کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
معیشت کے مجموعی اعداد و شمار سے کچھ اطمینان ضرور ملتا ہے۔ مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کی صورت حال مجموعی طور پر اہداف کے مطابق ہے، پاکستان کے خودمختار قرضوں پر رسک پریمیم 2022 کے بحران سے پہلے کی سطح پر واپس آچکا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی بحران سے قبل کی سطح تک بحال ہوگئے ہیں۔ یہ مالیاتی استحکام اور بیرونی کھاتوں میں بہتری کے اہم نتائج ہیں لیکن وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک بظاہر آئی ایم ایف کے مقرر کردہ اہداف پورے کرنے ہی کو کافی سمجھنے لگے ہیں۔
معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور غربت میں کمی بدستور ثانوی ترجیحات ہیں، گویا معیشت کا استحکام بذاتِ خود منزل ہو، نہ کہ بہتر معاشی حالات کے حصول کا ذریعہ۔
گھریلو سطح پر عوام کی معاشی حالت اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق مالی سال 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی، جو 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی۔ اسی عرصے میں آمدنی کی ناہمواری بھی بڑھی اور جینی عدد 28.4 سے بڑھ کر 32.7 ہوگیا۔
پاکستان کی معیشت شاید مستحکم ہوگئی ہو، لیکن آبادی کا بڑھتا ہوا حصہ غربت کا شکار ہوچکا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور اس کے مہنگائی پر براہِ راست و بالواسطہ اثرات سے عوام پر دباؤ مزید بڑھے گا۔
بیرونی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پھیلنے کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی اور رسد کے نظام میں رکاوٹوں سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہورہی ہیں۔ حکومتوں کے لیے آئندہ صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
لیکن پاکستان کی معاشی ترقی کی مشکلات اب پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہیں، جبکہ عوام کی قوتِ خرید میں کمی کا عمل اس تنازع سے بہت پہلے شروع ہوگیا تھا۔ جنگ نے ان مسائل کو مزید سنگین کردیا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ملکی پالیسی سازوں کے پاس کئی سال موجود تھے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید ردوبدل، کراس سبسڈی کے خاتمے اور کمزور طبقات کے لیے امداد کو زیادہ مؤثر انداز میں ہدف بنانے پر زور دے رہا ہے۔
معاشی اعتبار سے ان اقدامات کی منطق قابلِ فہم ہے۔ توانائی کے شعبے کو مالی طور پر قابلِ عمل بنانے کے لیے لاگت کے مطابق وصولیاں اور گردشی قرضے میں کمی ضروری ہیں مگر مؤثر متبادل انتظامات کیے بغیر موجودہ سبسڈی ختم کرنے سے کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں پر بجلی اور گیس کے بلوں کا مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کا مالیاتی نظم و ضبط کا مطالبہ درست ہے، لیکن اسلام آباد کو یقینی بنانا ہوگا کہ معاشی اصلاحات کا بوجھ غیر متناسب طور پر ان لوگوں پر نہ پڑے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ دو ایسے شعبے بھی ہیں جہاں پاکستان کو آئی ایم ایف سے مزید لچک حاصل کرنے کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔ پہلا معاملہ فرنس آئل پر پیٹرولیم لیوی کا ہے، جسے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت اصلاحات کے حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے دوبارہ فرنس آئل استعمال کرنے کی ضرورت کے پیش نظر اس لیوی کو بغیر کسی ردوبدل کے برقرار رکھنے کا جواز کمزور پڑ گیا ہے۔
جنگ جاری رہنے اور خطے میں توانائی کی رسدی زنجیروں میں رکاوٹیں برقرار رہنے تک آئی ایم ایف کو پیٹرولیم لیوی کی عارضی معطلی کی اجازت دینی چاہیے۔ ماحولیاتی وعدے اہم ہیں، لیکن بجلی کی فوری دستیابی اور عوام کے لیے اس کی استطاعت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
دوسرا معاملہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور چھوٹی کاروں کے لیے ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی فوری ختم کرنے کے آئی ایم ایف کے مطالبے کا ہے۔ یہ اسکیم مہنگی اور غیر مؤثر انداز میں ہدف بنائی گئی ہے۔ اس سے بڑی حد تک ان غریب ترین گھرانوں کو فائدہ نہیں پہنچتا جن کے پاس اپنی گاڑیاں نہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی پر پڑنے والے وسیع تر اثرات کو روکنے میں بھی یہ زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتی۔
لہٰذا آئی ایم ایف کی تنقید بجا ہے، لیکن کسی قابلِ اعتماد متبادل کے بغیر ریلیف ختم کرنے سے ان گھرانوں پر مزید بوجھ پڑے گا جو پہلے ہی حقیقی آمدنی میں کمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بلند رہنے تک مجموعی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کے لیے بات چیت کی جائے، ساتھ ہی مستحق افراد کو زیادہ ہدفی بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جائے۔
ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی نے حکومت کو مالیاتی گنجائش فراہم کی ہے۔ بیرونی قیمتوں کے غیر معمولی جھٹکے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں پر نظرثانی کے حق میں ایک معقول دلیل موجود ہے۔
لیوی میں کمی، ایندھن کو اس کی لاگت سے کم قیمت پر فراہم کرنے کے لیے سبسڈی دینے کے مترادف نہیں، تاہم اس سے حکومتی آمدنی میں کمی ہوگی اور زیادہ آمدنی والے صارفین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس لیے مالیاتی سمجھوتے کی شرائط واضح ہونی چاہییں، اس اقدام کو عارضی رکھا جائے اور بجٹ کے دیگر شعبوں میں ردوبدل کے ذریعے آمدنی میں کمی کا ازالہ کیا جائے۔
یہ بحث ہمیں ایک بنیادی مسئلے کی طرف لے جاتی ہے، یعنی پاکستان کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ناکامی۔ تاجر اور خوردہ فروش اب بھی مؤثر ٹیکس ادائیگی سے گریز کرتے ہیں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے پر اس کی استعداد کے مقابلے میں کم ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ صوبوں میں زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولیاں بھی اپنی ممکنہ سطح سے بہت کم ہیں۔
آئی ایم ایف کے اپنے تجزیے میں بھی ان خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے باوجود یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے دہائیوں سے ٹیکس نیٹ اور دستاویزی معیشت کی مخالفت کرنے والے سیاسی طور پر بااثر طبقات کا سامنا کرنے کے بجائے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں سے مزید محصولات وصول کرنے کو ترجیح دی ہے۔
محصولات کی حالیہ کارکردگی اس مسئلے کو واضح کرتی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پہلی سہ ماہی میں اپنے ہدف سے معمولی زیادہ ٹیکس وصول کیا، لیکن یہ کامیابی ٹیکس نظام کے معیار یا اصلاحاتی اقدامات کے پائیدار ہونے کے بارے میں بہت کم بتاتی ہے۔ دستاویزی کارپوریٹ شعبہ، تنخواہ دار طبقہ اور پیٹرولیم مصنوعات کے صارفین بدستور حکومت کے لیے محصولات کے آسان ذرائع ہیں۔
زرعی آمدنی پر ٹیکس کی اصلاحات سے عملی وصولیوں میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ خوردہ تجارت کو دستاویزی بنانے کی کوششیں بھی مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔
مقدس گائیں بدستور بڑی حد تک احتساب اور ٹیکس سے محفوظ ہیں، جبکہ پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل افراد سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ بڑھتا ہوا بوجھ اٹھاتے رہیں گے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments