بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں احتجاج کا دوسرا روز
- حکام کے مطابق، گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کو ہفتے کی رات رہا کردیا گیا، جبکہ اتوار کو بھی شہر بھر میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات رہے۔
بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے احتجاج کا اتوار کو دوسرا روز تھا۔ ایک عدالت نے کاکروچ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈِپکے اور دو دیگر سینئر رہنماؤں کی رہائی کا حکم دے دیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ڈِپکے سمیت دیگر رہنماؤں کو ہفتے کے روز دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ تحریک نے وسطی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر ہزاروں افراد کو جمع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے ہفتے کے احتجاج کو روکنے کے لیے 2,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا اور شہر کے مرکزی علاقے میں سخت پابندیاں نافذ کیں۔
حکام کے مطابق، گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کو ہفتے کی رات رہا کردیا گیا، جبکہ اتوار کو بھی شہر بھر میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات رہے۔
احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انتخابی کمیشن نے جانبداری کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
انتخابی کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق، ووٹر فہرستوں کی جانچ پڑتال کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے مسلم ووٹرز اور دیگر اقلیتیں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے حکام پر زور دیا کہ پُرامن اجتماع کے حق کا احترام کیا جائے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے اس بیان کو ملک کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا۔


Comments