اصلاحات مزید مراعات نہیں
- سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ بنانے کے لیے یونائیٹنگ فار کنسینسس گروپ کا تجویز کردہ زیادہ منطقی طریقہ یہ ہے کہ منتخب ارکان کی تعداد بڑھائی جائے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی شمولیت کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان، یونائیٹنگ فار کنسینسس گروپ کے ارکان اور دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایسی اصلاح شدہ سلامتی کونسل کی وکالت کر رہا ہے جس میں زیادہ ممالک کو نمائندگی حاصل ہو۔ اصلاحات کا مطالبہ بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن مستقل ارکان کے مراعات یافتہ زمرے کو وسعت دینے سے کونسل کی بنیادی کمزوریاں دور نہیں ہوسکتیں۔ اس کے برعکس، ایسا قدم اس مسئلے کو مزید گہرا کرسکتا ہے جسے اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یعنی بین الاقوامی فیصلہ سازی کا ایک غیر مساوی اور اکثر مفلوج نظام۔
سلامتی کونسل کا بنیادی مسئلہ محض یہ نہیں کہ مستقل نشستیں رکھنے والے ممالک کی تعداد بہت کم ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مستقل رکنیت نے ایسا ڈھانچہ تشکیل دے دیا ہے جس میں چند ریاستوں کو ایسے معاملات پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے جو پوری عالمی برادری کو متاثر کرتے ہیں۔ پانچ مستقل ارکان کا ویٹو کا اختیار بڑے تنازعات اور انسانی بحرانوں پر مؤثر کارروائی کی راہ میں بارہا رکاوٹ بن چکا ہے۔ اس مراعات یافتہ گروہ میں مزید ممالک کو شامل کرنے سے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جواب دہ بنانے کے بجائے فیصلوں میں تعطل کے مزید امکانات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ جیسا کہ سفیر عاصم افتخار نے بجا طور پر کہا کہ کسی بھی نئے ملک کو انفرادی طور پر مستقل رکن بنانا صرف مسئلے کو مزید سنگین کرے گا۔۔۔ مسئلے کا حل خود مسئلہ نہیں ہوسکتا۔
سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ بنانے کے لیے یونائیٹنگ فار کنسینسس گروپ کا تجویز کردہ زیادہ منطقی طریقہ یہ ہے کہ منتخب ارکان کی تعداد بڑھائی جائے اور مقررہ مدت کے لیے ایسی نشستیں متعارف کرائی جائیں جن پر وقتاً فوقتاً انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب ہوں۔ اس انتظام سے زیادہ وسیع تعداد میں ممالک، بالخصوص ترقی پذیر، درمیانی درجے کی طاقتوں اور علاقائی قوتوں کو، مستقل مراعات کا ایک اور طبقہ تشکیل دیے بغیر، بین الاقوامی امن و سلامتی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اس سے یہ بھی یقینی بنایا جاسکے گا کہ نمائندگی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرے، نہ کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے طاقت کے ڈھانچے کو مستقل طور پر مستحکم کردے۔
اس معاملے میں ایک عملی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ چند منتخب اضافی ممالک کو مستقل نشستیں دینے سے لازماً دوسرے ممالک میں عدم اطمینان پیدا ہوگا۔ آخر کن ریاستوں کو اس کا اہل قرار دیا جائے اور کس بنیاد پر؟ کیا معیار آبادی، معاشی طاقت، فوجی صلاحیت، علاقائی اہمیت یا اقوام متحدہ کے لیے مالی معاونت ہونا چاہیے؟ ہر معیار مختلف دعووں اور علاقائی رقابتوں کو جنم دے گا۔ بالخصوص ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا میں ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینا بذاتِ خود سفارتی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے نمائندگی کا ایک مسئلہ حل ہونے کے بجائے اس کی جگہ دوسرا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے مقابلے میں باری باری رکنیت کا نظام کہیں زیادہ منصفانہ ہوگا۔ ایسے ممالک جو سفارت کاری کی صلاحیت رکھتے ہوں اور امن فوجی کارروائیوں، تنازعات کی روک تھام اور اختلافات کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہوں، انہیں وقتاً فوقتاً ہونے والے انتخابات کے ذریعے سلامتی کونسل کی نشستیں حاصل کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ درمیانی مدت کے لیے منتخب نشستیں مستقل مراعات دیے بغیر تسلسل فراہم کرسکتی ہیں۔ اس طرح رکن ممالک کو بھی اپنی سفارتی صلاحیتیں بہتر بنانے اور اقوام متحدہ کے نظام میں تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب ملے گی، بجائے اس کے کہ وہ ایک ایسی خصوصی حیثیت حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کریں جو حقیقتاً تمام مستحق ممالک کو کبھی نہیں دی جاسکتی۔ سلامتی کونسل میں پاکستان کی 2025-26 کی رکنیت کا اپنا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی میں بامعنی کردار ادا کرنے کے لیے مستقل رکن ہونا ضروری نہیں۔
بلاشبہ سلامتی کونسل کو اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن عالمی برادری کو اس فرسودہ درجہ بندی کو بڑے پیمانے پر دوبارہ قائم کرنے کے رجحان کی مزاحمت کرنی چاہیے جو دوسری عالمی جنگ کے فاتحین نے تشکیل دی تھی۔ اصلاحات کا مطلب وسیع تر نمائندگی، زیادہ جواب دہی اور زیادہ جمہوری شرکت ہونا چاہیے، نہ کہ صرف مستقل مراعات سے مستفید ہونے والے ممالک کی تعداد بڑھانا۔ ایک غیر مساوی نظام کا حل مستقل اختیارات میں مزید اضافہ نہیں، بلکہ باری باری رکنیت پر مبنی ایک زیادہ منصفانہ نظام ہے، جس میں زیادہ ممالک کو سلامتی کونسل میں خدمات انجام دینے کا بامعنی موقع حاصل ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments