ریاست کی مالی معاونت، معاشی ترقی کا گلا گھونٹنا
- حکومت بینکوں کو کم خطرے والی سرکاری سیکیورٹیز فراہم کرتی ہے، اس لیے بینکوں کا غیر مستند کاروباروں کو قرض دینے کے بجائے ان میں سرمایہ کاری کرنا محتاط فیصلہ ہے
پاکستان میں حالیہ تین اہم مداخلتوں نے معیشت سے متعلق ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ شاہد کاردار کا مؤقف ہے کہ بینکوں کا غلبہ اس لیے ہے کہ متبادل مالیاتی ادارے کبھی ان کے برابر وسعت حاصل نہیں کرسکے۔
ظفر مسعود کا جواب ہے کہ علاقائی ممالک کے بینکوں کے مقابلے میں پاکستانی بینکوں کو بالکل مختلف حالات کا سامنا ہے۔ یہاں غیر دستاویزی معیشت، نقد رقوم کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور حکومت کی جانب سے بینکوں کے مالی وسائل کا بڑا حصہ استعمال کرنا اہم عوامل ہیں۔
ندیم الحق اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف بینکوں پر مبنی معیشت کا ہونا ضروری نہیں کہ معاشی ترقی کی ضمانت بھی ہو۔ ان تینوں آرا کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ معاملہ محض اس اختلاف تک محدود نہیں کہ بینکرز سست ہیں، انہیں تحفظ حاصل ہے یا وہ اپنے مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ اس نظام کا ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے پاکستان بچتوں کو متحرک کرتا، قرضوں کی تقسیم کرتا اور معیشت میں توازن پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرتا ہے۔ یہ نظام معاشی تبدیلی کے بجائے ریاستی اخراجات کی مالی معاونت کو زیادہ فائدہ مند بناتا ہے۔ اس کے علاوہ پالیسی سازوں کو بھی ترغیب ملتی ہے کہ وہ شرح سود، شرح مبادلہ، درآمدی پابندیوں یا عارضی نقدی سہولت جیسے مسائل پر توجہ دیں، گویا یہ اقدامات پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کا متبادل ہوسکتے ہیں۔
شاہد کاردار کے پیش کردہ اعدادوشمار چونکا دینے والے ہیں۔ مالیاتی شعبے کے 80 فیصد سے زیادہ اثاثے کمرشل بینکوں کے پاس ہیں۔ بینکوں کے تقریباً 62 فیصد اثاثے سرکاری سیکیورٹیز پر مشتمل ہیں، جبکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کا تناسب صرف 22 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ کارپوریٹ قرضوں کا حجم انتہائی کم ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت بھی محدود ہے۔ بظاہر متنوع نظر آنے والا مالیاتی شعبہ درحقیقت اب بھی زیادہ تر بینکوں کے گرد گھومتا ہے۔
تاہم ظفر مسعود کا یہ مؤقف درست ہے کہ ان نتائج کا سارا الزام بینکرز کی ترجیحات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ بینک قرض دیتے وقت معلومات کی دستیابی کو اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کے بڑے حصے کا ریکارڈ موجود نہیں، کاروبار اپنے اصل کاروباری حجم کو چھپاتے ہیں، نقد لین دین غالب ہے اور آڈٹ شدہ حسابات اکثر قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں معلومات کی کمی پوری کرنے کے لیے ضمانتوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب حکومت بینکوں کو نسبتاً کم خطرے والی سرکاری سیکیورٹیز کی بڑی مقدار فراہم کرتی ہے۔ ایسے ترغیبی نظام میں کسی بینکر کا ناقص دستاویزات رکھنے والے کاروبار کو قرض دینے کے بجائے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنا بظاہر ایک معقول اور محتاط فیصلہ ہے۔
لیکن انفرادی مالیاتی اداروں کے لیے معقول رویہ پوری معیشت کے لیے غیر معقول نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صرف 8.7 فیصد کے برابر تھا۔ ڈپازٹس کے مقابلے میں قرضوں کی فراہمی کا تناسب کم ہوکر 36.3 فیصد رہ گیا، کیونکہ قرضوں کے مقابلے میں ڈپازٹس تیزی سے بڑھے اور بینکوں نے سرکاری سیکیورٹیز میں بھاری سرمایہ کاری برقرار رکھی۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق سرمایہ کاری جی ڈی پی کے صرف 14.38 فیصد اور قومی بچتیں 14.13 فیصد کے برابر رہیں۔ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بہتر ہوکر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، لیکن پائیدار اور بنیادی نوعیت کی معاشی تبدیلی کے لیے یہ تناسب انتہائی کم ہیں۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان کو صرف مالی وسائل کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ دستیاب مالی وسائل بھی درست مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہورہے ہیں۔
شہری اپنی بچتیں بینکوں میں جمع کراتے ہیں، بینک ان رقوم کا بڑا حصہ حکومت کو قرض دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ حکومت ٹیکسوں اور مزید قرضوں کے ذریعے اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیداواری کاروباروں کو مہنگے قرضوں، مختصر مدت کی فنانسنگ، سخت ضمانتی شرائط اور ایکویٹی کی محدود دستیابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں یہ نظام بچتوں کو مالیاتی ذرائع سے آگے منتقل تو کرتا ہے، لیکن اکثر ان کا رخ مستقبل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے حکومتی اخراجات پورے کرنے کی طرف ہوتا ہے۔
ندیم الحق کی جانب سے لفظ قدر میں کمی (ڈی ویلیوایشن) کے استعمال پر الگ سے پیش کی گئی بحث یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ یہی فکری مسئلہ معاشی پالیسی میں بھی کیوں دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی شرح مبادلہ کے بارے میں ایسے بات کرتا ہے جیسے حکومت اسے کسی انتظامی بٹن کی طرح گھٹا یا بڑھا سکتی ہو، حالانکہ لچکدار شرح مبادلہ کے نظام میں یہ بڑی حد تک ایک ایسی قیمت ہوتی ہے جس کا تعین مہنگائی، پیداواری صلاحیت، بیرونی کھاتوں کی صورت حال، زرمبادلہ کے ذخائر، سرمائے کی آمد و رفت اور توقعات جیسے عوامل کرتے ہیں۔ روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر دبانے سے وقتی طور پر ظاہر ہونے والے اعدادوشمار تو بدل سکتے ہیں، لیکن اس سے معیشت کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔
یہی نکتہ بینکاری کے شعبے سے متعلق بحث کا بھی مرکزی حصہ ہے۔ روپے کی کمزور قدر اور نجی سرمایہ کاری کی کمی دو الگ الگ مسائل نہیں، بلکہ دونوں کی وجوہات میں کم پیداواری صلاحیت، محدود برآمدات، مالیاتی شعبے پر حکومتی غلبہ، بھاری ٹیکس، ناکافی بچتیں، ناقص طرز حکمرانی اور مالیاتی منڈیوں کی محدود وسعت شامل ہیں۔ پاکستان بار بار شرح مبادلہ کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس معیشت میں اصلاحات نہیں کرتا جو اس شرح کا تعین کرتی ہے۔ اسی طرح مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے بغیر معاشی ترقی تیز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ یہی ڈھانچہ طے کرتا ہے کہ بچتوں کو کہاں استعمال کیا جائے گا۔
روپے کی مصنوعی طور پر بلند قدر درآمدات کو سستا کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے اور برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے، جبکہ روپے کی قدر میں اچانک کمی مہنگائی اور قرضوں پر سود و دیگر ادائیگیوں کے اخراجات بڑھا سکتی ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔
مسابقتی شرح مبادلہ اسی وقت پائیدار ثابت ہوسکتی ہے جب اس کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں اضافہ، ضابطہ جاتی اخراجات میں کمی، توانائی کی قابل اعتماد فراہمی، بہتر رسد و ترسیل اور پیداواری صلاحیت میں بہتری بھی ہو۔ اسی طرح صرف پالیسی ریٹ کم کرنے سے سرمایہ کاری پیدا نہیں ہوسکتی، جب حکومت بینکوں کے مالی وسائل کا بڑا حصہ اپنے لیے مختص کرلے اور کاروباری افراد کو خطرات برداشت کرنے کے لیے درکار سرمایہ دستیاب نہ ہو۔
اسی لیے مالیاتی شعبے میں تنوع پیدا کرنے سے متعلق ندیم الحق کا مؤقف قابل غور ہے۔ ترقی کرتی ہوئی معیشت کو صرف بینک قرضوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے کارپوریٹ بانڈز، آزاد اثاثہ جاتی منتظمین، پنشن فنڈز، وینچر کیپیٹل، نجی ایکویٹی، کریڈٹ یونینز، کوآپریٹو اداروں اور فعال اسٹاک مارکیٹوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
قرض کا نظام فطری طور پر ایسے قائم شدہ قرضوں کے حصول کو ترجیح دیتا ہے جن کے پاس ضمانت کے لیے اثاثے موجود ہوں۔ اس کے برعکس ایکویٹی اور منافع و نقصان میں شراکت پر مبنی مالیات نئے خیالات، جدت اور پہلی نسل کے کاروباری افراد کی مدد کرسکتی ہیں، جن کا اصل اثاثہ وراثت میں ملنے والی جائیداد کے بجائے مستقبل کی پیداواری صلاحیت ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل نظام اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ظفر مسعود نے درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ راست، ون لنک اور باضابطہ ادائیگیوں کے نظام کے ذریعے لین دین کا قابل ریکارڈ سلسلہ تشکیل پا رہا ہے۔ مناسب رازداری کے تحفظات کے ساتھ استعمال ہونے والی یہ ڈیجیٹل معلومات ایسے قرض لینے والوں کی مالی حیثیت جانچنے میں مدد دے سکتی ہیں جن کا کاروبار پہلے رسمی نظام میں نظر نہیں آتا تھا۔ اس طرح زمین یا عمارت کو ضمانت بنانے کے بجائے نقد رقوم کی آمد و رفت کی بنیاد پر قرض دینے کی صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے۔ تاہم ڈیجیٹلائزیشن مالیاتی اداروں کو دستیاب معلومات بہتر تو بناتی ہے، لیکن بذات خود سرمائے کے متبادل ذرائع پیدا نہیں کرتی۔
یہ بحث اس لیے بھی فوری اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان آئینی طور پر یکم جنوری 2028 سے پہلے ربا کے مکمل خاتمے کا پابند ہے۔ یہ تبدیلی یا تو مالیاتی نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا موقع بن سکتی ہے یا محض اصطلاحات اور معاہدوں کے نام بدلنے تک محدود رہ سکتی ہے۔ اگر روایتی سرکاری سیکیورٹیز کی جگہ ایسے صکوک لے لیں جن کے معاشی اثرات تقریباً یکساں ہوں، بینکوں کے اثاثوں کا بڑا حصہ بدستور حکومت کو مالی معاونت فراہم کرنے میں لگا رہے اور معاہدوں کی شکل بدلنے کے باوجود منافع کی ضمانتیں برقرار رہیں تو مالیاتی نظام میں حقیقی تبدیلی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔
مالیاتی نظام کی منصفانہ تشکیلِ نو سے متعلق ہماری حالیہ تحریروں میں ایک وسیع تر نقطہ نظر اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ لین دین کے لیے استعمال ہونے والی رقوم کو سرمایہ کاری کے سرمائے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ پیداواری مالیات کو ملکیت، تجارت، لیزنگ، کاروباری سرگرمیوں اور حقیقی خطرات میں شراکت سے منسلک ہونا چاہیے۔
کوآپریٹو مالیاتی ادارے مقامی برادریوں کی بچتوں کو متحرک کرسکتے ہیں، جبکہ کیپیٹل مارکیٹس کو طویل مدتی سرمایہ اور خطرات برداشت کرنے والے فنڈز فراہم کرنے چاہییں۔ بیت المال، عوامی وقف اور قرضِ حسنہ کے ذریعے ان سماجی ضروریات کو پورا کیا جانا چاہیے جنہیں کبھی بھی مالی استحصال کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
مگر یہ تمام اقدامات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک حکومت قومی بچتوں پر اپنا انحصار کم نہیں کرتی۔ شاہد کاردار، ظفر مسعود اور ندیم الحق کے درمیان ہونے والی بحث میں حکومتی مالیاتی غلبہ ایک مشترکہ بنیادی مسئلے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
جب ریاست کو مسلسل مالی وسائل درکار ہوں تو پورا مالیاتی نظام اسی ضرورت کے مطابق تشکیل پانے لگتا ہے۔ بینک سرکاری سیکیورٹیز خریدتے ہیں، پنشن فنڈز ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اسلامی مالیاتی ادارے حکومتی قرضوں کے لیے صکوک جاری کرنے کے ڈھانچے تشکیل دیتے ہیں اور مانیٹری پالیسی بھی ان اقدامات کے اثرات سنبھالنے میں مصروف رہتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ساختی نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ سرکاری سیکیورٹیز تک عام شہریوں اور حقیقی معنوں میں آزاد ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی براہ راست رسائی ممکن بنائی جائے۔ کارپوریٹ قرضوں کی منڈی کو شفافیت پر سمجھوتا کیے بغیر سستا اور آسان بنایا جائے۔
ایکویٹی فنانسنگ کو قرضوں کے برابر ٹیکس مراعات دی جائیں۔ بظاہر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے والے مالیاتی اداروں کی بینکوں کے پاس ملکیت کا جائزہ مسابقتی قوانین کے تحت لیا جائے۔ کوآپریٹو اور علاقائی مالیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان پر ان کے حجم اور خطرات کے تناسب سے ضابطے لاگو کیے جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مالیاتی اصلاحات کے ذریعے سرمائے اور مالی وسائل کو نجی معیشت کے لیے دستیاب بنایا جائے۔
پاکستان کو اس خوش فہمی سے بھی نکلنا ہوگا کہ شرح مبادلہ کو کنٹرول کرکے ان تمام خامیوں کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ روپے کی قدر دراصل معیشت کی صورت حال کی عکاس ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ ہو، برآمدات محدود رہیں، مالیاتی خسارے برقرار رہیں اور سرمایہ کاری کمزور ہو تو انتظامی طور پر پسندیدہ شرح مبادلہ کے ذریعے اس عدم توازن کو مستقل طور پر چھپایا نہیں جاسکتا۔
بینکاری کے شعبے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ منافع کمانے والے اور مضبوط سرمایہ رکھنے والے بینک اپنے بل بوتے پر ترقی پر مبنی مالیاتی نظام تشکیل نہیں دے سکتے۔
موجودہ بحث کا اختتام اس فیصلے پر نہیں ہونا چاہیے کہ شاہد کاردار، ظفر مسعود یا ندیم الحق میں سے کون درست ہے۔ شاہد کاردار مالیاتی شعبے میں ارتکاز کی نشاندہی کرنے میں درست ہیں۔ ظفر مسعود اس ماحول کی وضاحت کرتے ہیں جس میں بینک کام کرتے ہیں۔ جبکہ ندیم الحق کا مؤقف درست ہے کہ اس ماحول کی تشکیل ہی معاشی ترقی کے لیے ناموزوں انداز میں کی گئی ہے، اور یہ کہ نمایاں معاشی اشاریوں میں ردوبدل بنیادی مسائل کے حل کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان سادہ ہے۔ کیا قومی بچتیں پیداواری صلاحیت، برآمدات، کاروباری سرگرمیوں، تکنیکی ترقی اور روزگار میں اضافے کے لیے استعمال ہوتی ہیں یا بدستور زیادہ تر جمع کنندگان، بینکوں اور حکومت کے درمیان گردش کرتی رہتی ہیں؟ جب تک اس صورت حال میں تبدیلی نہیں آتی، شرح مبادلہ کے بحران وقتاً فوقتاً اسی ساختی کمزوری کی عکاسی کرتے رہیں گے۔ پاکستان کے پاس منافع بخش بینک اور عارضی معاشی استحکام تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ ایسا مالیاتی نظام نہیں بنا سکے گا جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے درکار سرمایہ فراہم کرسکے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments