BR100 Increased By (0.13%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 29.80 Increased By ▲ 0.08 (0.27%)
CNERGY 12.73 Decreased By ▼ -0.20 (-1.55%)
DFML 16.97 Increased By ▲ 0.06 (0.35%)
DGKC 186.25 Decreased By ▼ -0.72 (-0.39%)
FABL 93.38 Decreased By ▼ -0.15 (-0.16%)
FCCL 52.16 Increased By ▲ 0.31 (0.6%)
FFL 14.00 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.73 Increased By ▲ 0.47 (2.44%)
HBL 302.02 Decreased By ▼ -0.81 (-0.27%)
HUBC 200.49 Decreased By ▼ -0.84 (-0.42%)
HUMNL 9.32 Increased By ▲ 0.05 (0.54%)
KEL 6.04 Increased By ▲ 0.45 (8.05%)
LOTCHEM 25.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.51%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -0.39 (-0.43%)
OGDC 315.91 Decreased By ▼ -1.14 (-0.36%)
PAEL 34.06 Increased By ▲ 0.08 (0.24%)
PIBTL 13.51 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 236.45 Decreased By ▼ -0.19 (-0.08%)
PPL 220.29 Decreased By ▼ -0.83 (-0.38%)
PRL 94.32 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
SNGP 90.99 Increased By ▲ 0.30 (0.33%)
SSGC 23.17 Increased By ▲ 0.10 (0.43%)
TELE 7.28 Increased By ▲ 0.04 (0.55%)
TPLP 11.90 Increased By ▲ 0.16 (1.36%)
TRG 56.49 Increased By ▲ 1.15 (2.08%)
UNITY 7.72 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان میں ٹیلی کام کے سخت قوانین اور بڑی کمپنیوں پر نیشنل رومنگ کی پابندی کی تجویز

  • اتھارٹی کو تکنیکی قابلِ عمل ہونے اور آپریشنل دائرہ کار کے تعین کا اختیار ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے ٹیلی کام شعبے میں مسابقتی نظام مزید سخت بنانے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت ریگولیٹر کو نمایاں مارکیٹ طاقت (ایس ایم پی) رکھنے والے آپریٹرز پر نیشنل رومنگ کی سہولت فراہم کرنے کی پابندی عائد کرنے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے اور تنازعات کے فیصلے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس اقدام میں صارفین کے مفاد اور مسابقت پر پڑنے والے اثرات کو بھی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

یہ تجاویز مسودہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپیٹیشن رولز 2026 کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ٹیلی کام مارکیٹ میں مسابقت کے لیے شعبہ جاتی مخصوص ضابطہ کار قائم کرنا ہے۔

مسودے کے مطابق اتھارٹی کسی ایسے لائسنس یافتہ آپریٹر کو، جو نمایاں مارکیٹ طاقت رکھتا ہو، نیشنل رومنگ کی سہولت فراہم کرنے کا پابند بنا سکتی ہے، اگر یہ مؤثر مسابقت کے فروغ، نیٹ ورک کی توسیع، صارفین کے مفاد کے تحفظ یا ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری سمجھی جائے۔

مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ نیشنل رومنگ کی سہولت منصفانہ، مناسب، شفاف اور بلاامتیاز شرائط پر فراہم کی جائے گی، جبکہ اتھارٹی کو اس کے تکنیکی قابلِ عمل ہونے، آپریشنل دائرہ کار اور مدت کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مجوزہ فریم ورک سے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں پر ریگولیٹری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب شعبہ انضمام کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور وسیع پیمانے پر 5G سروسز کے آغاز کی تیاری کی جارہی ہے۔

مسودے کے تحت قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر اتھارٹی کو نفاذ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ اتھارٹی ہدایات جاری، اصلاحی اقدامات کا تقاضا، متناسب ریگولیٹری پابندیاں عائد اور متعلقہ قانون کے تحت کارروائی شروع کرسکے گی۔

مجوزہ قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریم ورک کے تحت پیدا ہونے والے تنازعات کا فیصلہ اتھارٹی قانون کے مطابق کرسکے گی۔ تنازعات کے حل کے دوران مارکیٹ کی کارکردگی، صارفین کے مفاد، تناسب، تکنیکی قابلِ عمل ہونے اور مسابقت پر اثرات سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاسکے گا۔

مسودے میں ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ کے لیے شعبہ جاتی مخصوص ریگولیٹری فریم ورک بھی تجویز کیا گیا ہے، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اس سے مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے دائرہ اختیار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یہ پیش رفت ٹیلی کام شعبے میں مسابقتی امور کے ریگولیشن پر وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے اور سی سی پی کے درمیان طویل عرصے سے جاری دائرہ اختیار کے تنازع کے تناظر میں خاصی اہم ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے قبل قرار دے چکی ہے کہ مسابقتی امور پر سی سی پی کا وسیع تر دائرہ اختیار ہے۔

مسودے میں اتھارٹی کو جمع کرائی جانے والی درخواستوں کے لیے بھی زیادہ واضح ریگولیٹری نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایسی درخواستوں کے ساتھ شیڈول ون کے تحت مقررہ فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ پہلے اس حوالے سے ’’مناسب فیس‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔

اتھارٹی کو قواعد کے مقاصد کے حصول کے لیے رہنما اصول، فیصلے، فریم ورک یا ہدایات جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

مجوزہ نیشنل رومنگ کی شقیں ملک بھر میں تیزی سے ٹیلی کام کوریج بڑھانے کے وسیع تر پالیسی مقصد سے ہم آہنگ ہیں۔ 2015 کی ٹیلی کام پالیسی میں بھی ایس ایم پی آپریٹرز کے لیے منصفانہ اور بلاامتیاز شرائط پر نیشنل رومنگ کی سہولت کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

مجوزہ فریم ورک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی ٹیلی کام صنعت میں انضمام، اسپیکٹرم کا ارتکاز، انفراسٹرکچر تک رسائی اور مسابقتی حالات کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حالیہ پی ٹی اے تجاویز میں ایس ایم پی کے تعین کے لیے ابتدائی حد کے طور پر 25 فیصد مارکیٹ شیئر کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ ارتکاز، اسپیکٹرم ہولڈنگز، ضروری انفرااسٹرکچر، مالیاتی قوت، نیٹ ورک اثرات اور مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹوں سمیت دیگر عوامل کو بھی جائزے میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔

Comments

200 حروف