BR100 Decreased By (-1.72%)
BR30 Decreased By (-2.68%)
KSE100 Decreased By (-1.36%)
KSE30 Decreased By (-1.26%)
BAFL 56.05 Decreased By ▼ -0.45 (-0.8%)
BIPL 24.50 Decreased By ▼ -0.28 (-1.13%)
BOP 28.89 Decreased By ▼ -1.04 (-3.47%)
CNERGY 12.21 Decreased By ▼ -0.51 (-4.01%)
DFML 16.71 Decreased By ▼ -1.77 (-9.58%)
DGKC 183.00 Decreased By ▼ -4.07 (-2.18%)
FABL 92.34 Decreased By ▼ -0.84 (-0.9%)
FCCL 50.00 Decreased By ▼ -1.13 (-2.21%)
FFL 13.82 Decreased By ▼ -0.59 (-4.09%)
GGL 18.67 Decreased By ▼ -0.13 (-0.69%)
HBL 295.21 Decreased By ▼ -7.08 (-2.34%)
HUBC 195.57 Decreased By ▼ -3.07 (-1.55%)
HUMNL 9.29 Decreased By ▼ -0.39 (-4.03%)
KEL 5.62 Decreased By ▼ -0.35 (-5.86%)
LOTCHEM 25.30 Decreased By ▼ -0.95 (-3.62%)
MLCF 88.24 Decreased By ▼ -1.90 (-2.11%)
OGDC 310.34 Decreased By ▼ -4.28 (-1.36%)
PAEL 33.01 Decreased By ▼ -1.76 (-5.06%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -1.01 (-7.11%)
PIOC 231.01 Decreased By ▼ -2.99 (-1.28%)
PPL 216.48 Decreased By ▼ -4.18 (-1.89%)
PRL 87.42 Decreased By ▼ -2.93 (-3.24%)
SNGP 88.07 Decreased By ▼ -2.29 (-2.53%)
SSGC 22.48 Decreased By ▼ -0.79 (-3.39%)
TELE 6.97 Decreased By ▼ -0.39 (-5.3%)
TPLP 11.60 Decreased By ▼ -0.50 (-4.13%)
TRG 51.45 Decreased By ▼ -2.94 (-5.41%)
UNITY 7.74 Decreased By ▼ -0.21 (-2.64%)
WTL 0.99 Decreased By ▼ -0.01 (-1%)
دنیا

سوئس صدر کے دورۂ بھارت کا مقصد تجارتی تعلقات کو فروغ دینا

  • بھارت اور سوئٹزرلینڈ نے اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی، جس سے بھارتی برآمدات کو فروغ اور سوئس سرمایہ کاری میں نمایاں اضافے کی راہ ہموار ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

سوئس صدر گائے پارملین کا پیر کو بھارت میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے امور پر بات چیت کے لیے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔

پارملین نے کہا، ’’میرا دورہ مزید ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کا تین روزہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ، ناروے، آئس لینڈ اور لیختن اسٹائن پر مشتمل چار رکنی یورپی اتحاد کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔

اس معاہدے کے تحت یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کا مقصد 15 سال کے دوران بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت درآمدی محصولات میں کمی کی گئی ہے، جس سے بھارتی کمپنیوں کے لیے ای ایف ٹی اے کی چاروں منڈیوں میں اشیا فروخت کرنا آسان ہوگیا ہے، جبکہ یورپی کمپنیوں کو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ملک بھارت تک زیادہ رسائی حاصل ہوگئی ہے۔

پارملین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اس بات کا جشن منانے کا موزوں وقت ہے کہ ہم نے مل کر کتنا سفر طے کیا ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کریں۔‘‘ وہ اس سے قبل فروری میں نئی دہلی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔

مودی نے ای ایف ٹی اے تجارتی معاہدے کے حوالے سے پارملین کی ’’ذاتی حمایت‘‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

مودی نے پارملین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک نے ’’بھارتی برآمدات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں منڈی تک رسائی بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس سے بھارت کی زرعی، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی سوئٹزرلینڈ کو برآمدات میں اضافہ ہوگا۔‘‘

مودی نے کہا کہ اس معاہدے سے ’’بایوٹیک، لائف سائنسز، بینکاری، انشورنس، فوڈ پروسیسنگ اور پائیداری‘‘ جیسے بھارت کے اہم شعبوں میں سوئس سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

دونوں حکومتوں نے پیر کو نقل و حرکت سے متعلق ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے بارے میں مودی نے کہا کہ اس سے سوئٹزرلینڈ میں بھارتی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

Comments

200 حروف