پی ٹی آئی نے حکومت کے یکطرفہ طرزِ عمل کو مذاکرات کی ناکامی کی وجہ قرار دے دیا
- وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجا نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کو خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے مجوزہ فریم ورک پر اختلاف سے منسوب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ مرکز کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت قبول کرے۔
مذاکرات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی مذاکراتی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، جبکہ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور ان کی حمایت بھی حاصل کی جانی چاہیے۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو یہ مؤقف قابلِ قبول نہیں تھا۔ ان کے بقول حکومتی ٹیم کا اصرار تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے جانے والے اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت کو قبول کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی ٹیم دہشت گردی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم وہ ایسے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور لوگوں کی اندرونِ ملک نقل مکانی سمیت جانی و سماجی نقصانات ہوں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہونی چاہیے اور انہیں زمینی معلومات اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں منعقدہ جرگے کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس جرگے میں صوبے بھر بشمول ضم شدہ اضلاع سے سیاسی اور قبائلی رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔ مذاکرات ایک روز قبل قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں آٹھ گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ان مذاکرات کا مقصد پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کی لانگ مارچ اور دیگر سیاسی و سکیورٹی سے متعلق امور پر اختلافات کو حل کرنا تھا۔
حکومت اور اپوزیشن نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں الگ الگ مؤقف اختیار کیے۔ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی کا معاملہ بھی حل طلب امور میں شامل تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہی۔
حکومت نے سلمان راجا کا مؤقف مسترد کردیا
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سلمان اکرم راجا کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار اختیار کرنے کی تجویز دے چکی ہے۔
ایکس پر سلمان اکرم راجا کے بیان کے جواب میں عطا اللہ تارڑ نے دہشت گردی سے متعلق وفاقی اور صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں خیبر پختونخوا حکومت کی شرکت اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے افغان طالبان کی حکومت اور سرحد پار حملوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف پر بھی سوال کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے مبینہ عدم تعاون پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون اور مشترکہ اقدامات کے لیے تیار ہے، تاہم اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔
انہوں نے افغان طالبان کی حکومت اور سرحد پار حملوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا اور دہشت گردی کے خلاف صوبے میں لڑنے والی سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کے لیے مبینہ طور پر ناکافی حمایت پر تنقید کی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی دباؤ کا سامنا ہونے پر مشاورت کا معاملہ اٹھا رہی ہے اور انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہے۔
شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کا مؤقف پیش کردیا
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات اس وقت ناکام ہوگئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے تعاون سے متعلق مسودہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ مسودہ معاہدے کے چار مختلف مسودے تیار کیے گئے تھے تاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے تجویز کردہ تبدیلیوں کو شامل کیا جا سکے، جبکہ اس کا مقصد خیبر پختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنا تھا۔
شیری رحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے بار بار درخواستوں کے باوجود مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے اور انہوں نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں نئی شرائط پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اعتماد اور تعاون قائم کرنے کا ایک موقع تھے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی مؤقف مسترد کردیا
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کو سیاسی معاملات حل کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسی پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے مؤقف کے خلاف نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
شفیع جان نے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ مزید شہری ہلاکتوں اور نقل مکانی کو قبول نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو متاثر کرنے والے فیصلے صوبے سے مشاورت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔
مذاکرات میں تعطل ایسے وقت میں آیا جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کرنے کے منصوبے کو برقرار رکھا ہوا تھا۔ پارٹی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے اپنا احتجاج 27 ستمبر سے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کردیا تھا۔
وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد کا سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے اتوار کو لاہور میں ملاقات کی۔ سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران بین الاقوامی اہمیت کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سہولت کاری کرتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے میں سکیورٹی کے چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی شہادت پر قوم خیبر پختونخوا حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے خیبر پختونخوا میں ان عناصر کی آبادکاری کی حمایت کی جو دہشت گردی کے حامی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کی تقاریر اور میڈیا کا ریکارڈ اس حقیقت کے گواہ ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکز میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے ہر وزیراعلیٰ نے وفاق پر حملہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کو وفاق کی وحدت کی علامت اور 25 کروڑ پاکستانیوں کی شناخت قرار دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ شہداء نے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور گزشتہ سال ہونے والے فوجی آپریشن کا حوالہ دیا جس نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور بہادر مسلح افواج کسی بھی اندرونی یا بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔


Comments