وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات کا 7 نکاتی مسودہ جاری کردیا، حکومت نے دستاویز کو متنازع قرار دے دیا
- پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات نہ تو غیر آئینی ہیں اور نہ ہی غیر قانونی، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس دستاویز کو پہلے سے طے شدہ مسودے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا مسودہ قوم کے سامنے پیش کررہے ہیں اور اس کے ایک بھی مطالبے کو غیر آئینی یا غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، جبکہ ان کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
سات نکاتی مسودے میں وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان باقاعدہ ملاقاتوں کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری امور پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
مسودے میں حکومت کے اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جسے زیرِ التوا معاملات پر ایک ماہ کے اندر پیش رفت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
اہم مطالبات میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے مطابق قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنا شامل ہے۔ مسودے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے لیکن یہ ملاقاتیں جیل قوانین اور قانونی پابندیوں سے مشروط ہوں گی۔
ایک اور مطالبے کے تحت عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگوں اور بیمار قیدیوں سمیت قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر، جہاں قانون اجازت دے، 10 دن کے اندر کارروائی کی جائے گی۔ سیاسی قیدی قرار دی گئی خواتین، بالخصوص بزرگ پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے حوالے سے مسودے میں دہشت گردی سے نمٹنے، جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر اور مسلسل مشاورت پر زور دیا گیا ہے۔ دونوں حکومتوں کے مجاز نمائندوں کو 72 گھنٹوں میں ملاقات کرکے امن و سلامتی کی جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس پر آئین و قانون کے دائرے میں مشترکہ طور پر عملدرآمد ہوگا۔
آخری نکتے کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے طے شدہ اقدامات پر تحریری یقین دہانی ملنے کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ ختم کردے گی، تاہم یقین دہانیوں یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کا حق برقرار رہے گا۔
محسن نقوی کا مؤقف سے اختلاف
لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی نے سہیل آفریدی کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ مذکورہ مسودہ وزیراعلیٰ کا اپنا تیار کردہ مسودہ ہو، جسے آدھی رات کے قریب جاری کیا گیا، بظاہر اس مقصد کے لیے کہ دونوں جانب سے پہلے ہی طے کیے گئے مسودوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی ٹیموں نے حکومت کے ساتھ ایک الگ مسودہ حتمی شکل دے کر طے کیا تھا، جس پر دونوں فریق متفق تھے۔ اس کے ساتھ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق عملدرآمد کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
محسن نقوی نے ایکس پر اپنی سابقہ پوسٹ میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کا منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا مگر گزشتہ رات ہونے والے مذاکرات میں وہ ان وعدوں سے دستبردار ہوگئی۔
مجوزہ وعدوں میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائیاں کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں حاصل کرنے سے روکنا اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی واضح اور غیر مشروط مذمت شامل تھی۔


Comments