ورلڈ بینک کا پراپرٹی ٹیکس اصلاحات اور زرعی ٹیکس پر مؤثر عملدرآمد کا مطالبہ
- وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان اجلاس
ورلڈ بینک نے زرعی آمدنی ٹیکس (اے آئی ٹی) کی زیادہ مؤثر تعمیل پر زور دیا جس کے لیے ترمیم شدہ صوبائی قوانین پر مؤثر عمل درآمد، ڈیجیٹل رجسٹریشن، ریٹرن جمع کرانے اور ادائیگی نظام اور وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیٹا کے بہتر تبادلے کی ضرورت ہے۔
بینک نے صوبائی سطح پر جائیداد پر عائد ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت قدر کے تعین کے لیے یکساں اور زیادہ مارکیٹ پر مبنی طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ بینک نے نشاندہی کی کہ معیشت میں نمایاں کردار کے باوجود دونوں شعبوں پر عائد ٹیکس اب بھی ان کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
اس میں سرمایہ کاری کے فریم ورک، ضابطہ جاتی اور کاروباری رکاوٹوں میں کمی، ایس ایم ایز کے لیے مالی معاونت تک رسائی اور اضافی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹ فنانس بینک آف پاکستان کے لیے برآمدی مالیاتی مصنوعات کی تیاری سے متعلق مجوزہ اقدامات بیان کیے گئے ہیں۔
ان امور پر وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان ایک اجلاس میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں جاری اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اقتصادی ترقی، روزگار، مالیاتی انتظام، محصولات میں اضافہ، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے عمل درآمد کی ترجیحات پر بھی گفتگو کی گئی۔
ورلڈ بینک نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی میں تقریباً 24 فیصد حصہ رکھنے والا زرعی شعبہ، صوبائی زرعی آمدنی ٹیکس کے نظام میں حالیہ ترامیم کے باوجود، اب بھی بڑی حد تک مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ مزید برآں، جائیداد پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام سے بھی پوری طرح استفادہ نہیں کیا جارہا اور اس سے جی ڈی پی کا صرف تقریباً 0.13 فیصد حاصل ہوتا ہے جبکہ اسی نوعیت کی بہت سی معیشتوں میں یہ شرح 0.3 سے 0.6 فیصد تک ہے۔
اجلاس میں پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کے ڈیزائن سے مؤثر عمل درآمد کی جانب منتقل ہونے کی اہمیت پر زور دیا جس میں ایسے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی جائے جو معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اجلاس میں ورلڈ بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، مالیاتی سہولیات تک رسائی، مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور لیبر مارکیٹ کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ ورلڈ بینک نے سرمایہ کاری کے فریم ورک، ضابطہ جاتی اور کاروباری رکاوٹوں میں کمی، ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی سہولیات تک رسائی، اور اضافی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کے لیے برآمدی مالیاتی مصنوعات تیار کرنے سے متعلق مجوزہ اقدامات بھی پیش کیے۔
بات چیت میں وزیرِاعظم کے ایکسیس ٹو فنانس اقدام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جن میں دیوالیہ پن کے لیے ایک متحدہ قانونی فریم ورک، ایس ایم ایز کی مالی معاونت کے لیے فیکٹرنگ سے متعلق قانون سازی و ضوابط، تجارتی مالیاتی سہولیات میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے اقدامات شامل ہیں۔
شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے ورلڈ بینک نے ادویات اور طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات پر روشنی ڈالی۔
اجلاس میں ہنرمندی کی ترقی اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، پاکستانی ہنرمندی کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مدد سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے باقاعدہ اور منظم ہجرت کے راستے تیار کرنا شامل ہیں۔
وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بینک کے وفد نے قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا جس میں آٹو موٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق کام بھی شامل ہے۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عالمی ویلیو چینز میں مزید مؤثر طور پر ضم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
مالیاتی اور محصولات کی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں ٹیکس پالیسی سازی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ورلڈ بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا، جس میں درمیانی مدت کی محصولات کی حکمتِ عملی اور محصولات سے متعلق پالیسی ماڈلنگ کے لیے معاونت بھی شامل ہے۔ جی ایس ٹی میں ہم آہنگی پر بھی بات ہوئی، جس میں خدمات کے لیے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ یکسانیت، وفاقی و صوبائی سطح پر بہتر رابطہ کاری اور ڈیٹا کے تبادلے کے زیادہ مضبوط انتظامات شامل ہیں۔
اجلاس میں زرعی آمدنی ٹیکس کی اصلاحات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین اور قواعد پر عمل درآمد اور رجسٹریشن، ریٹرن جمع کرانے اور ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام شامل ہیں۔ ٹیکس قوانین کی تعمیل کو بہتر بنانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر ڈیٹا کے تبادلے کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گفتگو میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس کی اصلاحات بھی شامل تھیں جن کے تحت جائیداد کی قدر کے تعین کے طریقۂ کار کو بہتر اور ہم آہنگ کرنے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ پر مبنی ویلیوایشن فریم ورک کی جانب بڑھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ملکی کیپٹل مارکیٹس کے حوالے سے اجلاس میں کیپٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی معاونت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد ملکی کیپٹل مارکیٹس کو مزید وسعت دینا، مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنانا اور سرمایہ کاری و سرمایہ تشکیل کے لیے سازگار ماحول کو مضبوط کرنا ہے۔
اجلاس میں سرکاری شعبے کی کارکردگی اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ادارہ جاتی مؤثریت کو مضبوط بنانے اور سرکاری وسائل کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔
وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹس کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لیے مالیاتی ذرائع، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کے حوالے سے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے جاری تکنیکی تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی جانب پیش رفت کے لیے ورلڈ بینک کی تجزیاتی معاونت پر بھی بات ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے مقداری اور معیاری دونوں عوامل کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی جن میں مالیاتی اور قرضوں کا پائیدار انتظام، بیرونی مالیاتی ذخائر، پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی مؤثریت اور مسلسل ساختی اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ حیثیت میں مزید بہتری کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط کو بھی مزید گہرا کیا جائے گا۔
ورلڈ بینک کے وفد نے وزیرِ خزانہ کو گورننس اور ادارہ جاتی مؤثریت سے متعلق تجزیاتی کام سے بھی آگاہ کیا۔ اس حوالے سے گفتگو کا مرکز ایسے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحاتی اقدامات تھے جو حکومتی مؤثریت، ضابطہ جاتی معیار، شفافیت، جواب دہی اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔
دونوں جانب سے اقتصادی اصلاحاتی شراکت داری کے تحت مسلسل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس تعاون میں عملدرآمد، ادارہ جاتی مضبوطی، نجی شعبے کی قیادت میں اقتصادی ترقی، عوامی وسائل کے بہتر انتظام، زیادہ مضبوط سرمایہ کاری اور بہتر معاشی مواقع پر مشترکہ توجہ مرکوز رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔


Comments