اقوام متحدہ میں چین کا ایران، کیوبا پر امریکا کو جواب
- یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کے سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا
چین نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور ’’متعلقہ ملک‘‘ سے کیوبا کو دھمکیاں دینا بند کرنے اور اس پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اپنے خطاب میں امریکا کا نام نہیں لیا۔ امریکا نے کیوبا پر دباؤ بڑھانے کی مہم شروع کر رکھی ہے جس کے باعث جزیرے تک تیل کی رسائی بڑی حد تک رک گئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا کی جنگ فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
چین کے یہ ریمارکس رواں ہفتے کے آغاز میں وائٹ ہاؤس میں نظر آنے والی گرمجوشی کے بالکل برعکس تھے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کرتے ہوئے فوجی طیاروں کی پروازوں اور پرتکلف سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔
ہان ژینگ نے کہا، ’’بڑی طاقتوں کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری اٹھانی چاہیے اور انہیں قواعد کی پاسداری، قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور درست طرزِ عمل اختیار کرنے میں سبقت لینی چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’چین کا موقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، بشمول خلیجی ممالک، کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘
امریکا کے چین میں سفیر نے جمعے کو بتایا کہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ایران کی حمایت کرنے سے خبردار کیا تھا، جس پر انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ چین ایسا نہیں کرے گا۔
یہ انتباہ ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ نے ایران کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل لانچر فراہم کیے ہیں اور تہران نے چینی مدد سے اپنے تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے کے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔
کیوبا سے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
کیوبا کے حوالے سے ہان ژینگ نے کہا، ’’چین متعلقہ ملک پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر کیوبا کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دینا بند کرے اور کیوبا پر عائد ناکہ بندی اور پابندیاں فوری اور مکمل طور پر ختم کرے۔‘‘
اس ماہ کے آغاز میں کیوبا کے بجلی کے قومی نظام میں مکمل بلیک آؤٹ ہوگیا تھا، جس سے پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے، جبکہ امریکا کی جانب سے کیوبا پر ناکہ بندی کا دباؤ برقرار ہے۔
کیوبا کا پرانا بجلی پیدا کرنے کا نظام کئی برس سے ایندھن کی قلت اور خستہ حال بنیادی ڈھانچے کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، تاہم جنوری میں شروع ہونے والی امریکی تیل کی ناکہ بندی نے بجلی کی بندش میں مزید اضافہ کیا ہے اور بجلی کے نظام کے بار بار مکمل طور پر بیٹھ جانے کا سبب بنی ہے۔
ہان ژینگ نے اپنے خطاب میں چین کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور ترقی پذیر ممالک کے مستقل حامی کے طور پر بھی پیش کیا۔
انہوں نے کہا، ’’چین کا موقف ہے کہ تمام ممالک، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے، عالمی برادری کے مساوی رکن ہیں اور عالمی معاملات باہمی مشاورت کے ذریعے سب کو مل کر طے کرنے چاہئیں۔‘‘


Comments