نئے میکس متعارف، ایپل کا مائیکروسافٹ اور اینویڈیا سے مقابلے کا منصوبہ
- ایپل کے نئے کمپیوٹرز کوڈ لکھنے اور پیچیدہ کاروباری کام انجام دینے جیسے جدید اے آئی کاموں کے لیے تیار کیے گئے ہیں
ایپل نے کارپوریٹ صارفین کو اپنے نئے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کی جانب راغب کرنے کے لیے انہیں ڈیٹا سینٹرز کرائے پر لینے کے مقابلے میں کم لاگت کا آپشن قرار دیا ہے۔ نئے میک منی اور میک اسٹوڈیو منگل سے صارفین کو دستیاب ہوں گے، جن کی قیمت تقریباً 20 ہزار ڈالر تک ہوسکتی ہے اور یہ مصنوعی ذہانت کے کام مقامی طور پر انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایپل کے نئے کمپیوٹرز کوڈ لکھنے اور پیچیدہ کاروباری کام انجام دینے جیسے جدید اے آئی کاموں کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جن کے لیے صارفین کو اوپن اے آئی یا اینتھروپک جیسی کلاؤڈ کمپنیوں کو اے آئی ٹوکنز کی بنیاد پر ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی۔
تاہم کارپوریٹ ڈیسک ٹاپ مارکیٹ میں ایپل کو مائیکروسافٹ ونڈوز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ آئی ڈی سی کے مطابق انٹرپرائز ڈیسک ٹاپ مارکیٹ میں ایپل کا حصہ تقریباً 4.6 فیصد جبکہ ونڈوز کا حصہ 91.3 فیصد ہے۔
ایپل کے اے آئی کمپیوٹرز میں پیش رفت کی ایک اہم وجہ کمپنی کا توانائی کی بچت پر دیرینہ فوکس ہے۔ 2020 میں متعارف کرائے گئے ایپل سلیکون چپس میں کمپیوٹنگ اور میموری کو ایک یونیفائیڈ میموری آرکیٹیکچر میں یکجا کیا گیا، جس سے کارکردگی اور بیٹری کی استعداد بہتر ہوئی اور میکس اے آئی کاموں کے لیے موزوں ہوگئے۔
ایپل نے حالیہ برسوں میں میک اسٹوڈیو میں اے آئی سے متعلق جدید خصوصیات بھی شامل کی ہیں۔ کمپنی نے ایک مظاہرے میں 4 میک اسٹوڈیوز کو جوڑ کر ایک ٹریلین پیرامیٹرز والے اے آئی ماڈل سے گرافکس کوڈ کی خرابی تلاش اور درست کرتے دکھایا۔
ایپل کے چیف ہارڈویئر افسر جانی سروجی کے مطابق ڈیوائس خریدنے کے بعد صارفین کو ہر بار اے آئی ٹوکن کی بنیاد پر اضافی لاگت ادا نہیں کرنا پڑتی۔


Comments