BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)
مارکٹس

ایران کا ہتھیار نہ ڈالنے کا عزم، تیل تقریباً 2 فیصد مہنگا

  • مبرینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.84 ڈالر یا 1.85 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 101.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں بدھ کو اتار چڑھاؤ کے دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 1.84 ڈالر یا 1.85 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 101.09 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودوں میں 69 سینٹ یا 0.76 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 91.21 ڈالر فی بیرل رہی۔

پزشکیان نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم وہ اب بھی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو اسی فورم سے خطاب میں ایران کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران دشمنی ختم کرنے کی اپنی تجویز پر امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی متعدد اختلافات موجود ہیں۔

عہدیدار کے مطابق منگل کو ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر واشنگٹن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

اس سے قبل بدھ کو ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا تھا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔

دریں اثنا، یورپ میں کم سلفر والے گیس آئل کی برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کے مقابلے میں قیمت میں اضافی رقم ریکارڈ بلند سطح پر، تقریباً 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے ریکارڈ بلند قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کی تجویز کی حمایت کی۔ عالمی سطح پر رسد کی قلت کے باعث ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔

بعدازاں امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں اور مارکیٹ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی لانے میں معمولی اثر ڈالے گا، جبکہ عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب اور معیشتوں میں مزید خلل پیدا ہوسکتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران یورپ ڈیزل اور جیٹ فیول کی درآمد کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے۔

سیکسو بینک کے کموڈیٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا، ’’برینٹ کی قیمتوں کو گیس آئل کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں سے سہارا مل رہا ہے، کیونکہ یہ خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں کہ امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔‘‘

دریں اثنا، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا کہ 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر 30 لاکھ بیرل بڑھ کر 42 کروڑ 64 لاکھ بیرل ہوگئے۔ رائٹرز کے سروے میں تجزیہ کاروں نے ذخائر میں 6 لاکھ 41 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔ ایندھن کے ذخائر میں کمی ہوئی۔

خلیجی رسد میں اضافہ، سفارت کاری کی امیدیں

منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 97.36 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جو 8 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح تھی۔ بدھ کی ابتدائی تجارت میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی یکم ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ مشرق وسطیٰ سے مزید تیل کی رسد بڑھنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان جلد امن معاہدے کی امیدوں کے باعث قیمتوں پر دباؤ رہا۔

معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے منگل کو بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل دوبارہ شروع کردی۔

ہینسن نے مزید کہا، ’’قیمتوں میں کمی کے تناظر میں توجہ دینے کے قابل واحد خبر سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا دوبارہ کھلنا ہے۔‘‘

سعودی عرب نے جن ڈرون حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے، ان کے باعث مملکت نے 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کردی تھی، جس سے ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ بھی رک گئی تھی۔

سعودی عرب نے منگل کو ایشیائی ریفائنریوں کو آبنائے ہرمز سے باہر واقع مقامات سے تیل اٹھانے کے لیے مزید خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی۔

عراق کے وزیرِ تیل نے منگل کو بتایا کہ ملک یومیہ 30 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے اور ترکی کے راستے برآمدات بڑھا کر یومیہ 6 لاکھ بیرل سے زیادہ کرنے کی توقع ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرتا اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرتا ہے تو آبنائے ہرمز سات روز کے اندر دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ روس اور یوکرین دونوں نے اناج اور توانائی کے شعبوں تک محدود جنگ بندی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

Comments

200 حروف