علیمہ خان کے بعد عمران کی دیگر بہنیں اور رشتہ دار بھی گرفتار، پی ٹی آئی
- سیاسی خاندان کی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو پنجاب پولیس کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی دو بہنوں نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان، ان کے بچوں اور پہلے گرفتار کی جانے والی علیمہ خان کے بیٹوں کو گرفتار کیے جانے کے اقدام کو غیر قانونی اور من مانی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
پی ٹی آئی نے کہا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے جایا جارہا ہے۔ یہ اختیارات کا کھلم کھلا ناجائز استعمال، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی ہے۔
یہ پیشرفت عمران خان کی دوسری بہن علیمہ کی پولیس کی جانب سے گرفتاری کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ انہیں گرفتار کرکے 30 روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
یہ گرفتاریاں 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے قبل پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاعات کے درمیان عمل میں آئی ہیں۔
پارٹی نے کہا کہ اس انداز میں ایک سیاسی خاندان کی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کا طرزِ عمل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اور اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں مطالبہ کیا کہ ان کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے، انہیں بحفاظت واپس لایا جائے اور عدالتِ قانون کے روبرو پیش کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے بھی تصدیق کی کہ پنجاب پولیس نے عمران خان کی دونوں بہنوں، ان کے بچوں اور علیمہ خان کے بیٹوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ خاندان کے افراد کی گرفتاری باعثِ شرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب میری پھوپھیوں ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین اور میرے کزنز شیرشاہ اور شہریز کو بھی اغوا کرلیا گیا ہے۔
قاسم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان کی پھوپھیوں اور کزنز کے گھروں میں گھس کر انہیں زبردستی گاڑیوں میں بٹھا لیا، تاہم اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مجرمانہ طرزِ عمل ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ پاکستانی عوام اپنے ہی حکمرانوں سے خوفزدہ ہیں۔ کسی بھی باوقار قوم کو اس مجرمانہ طرزِ عمل کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ اب مداخلت ناگزیر ہوچکی ہے۔
دنیا کو لازماً کارروائی کرنی چاہیے۔
دوسری جانب آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکانِ پارلیمنٹ جن میں سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داور خان اور محمد غوث شامل ہیں کو اسلام آباد کے ریڈ زون سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج سے قبل ملک کے سیاسی منظرنامے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اپوزیشن رہنما سخت بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات شروع کردیے ہیں۔


Comments