سعودی برآمدات اور امریکا، ایران سفارت کاری کی امید پر تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے 100 ڈالر سے نیچے آگئی
- برینٹ خام تیل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے نرخ فی بیرل 100 ڈالر سے نیچے آگئے
عالمی منڈی میں پیر کو خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر 12 روز کی کم ترین سطح پر آگئیں، کیونکہ سرمایہ کار سعودی عرب سے تیل کی ترسیل میں جزوی بحالی پر نظر رکھے ہوئے تھے، جبکہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کے اجلاس کے باعث ایران جنگ کے معاملے پر سفارتی پیش رفت کی امید بھی پیدا ہوئی۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے نرخ فی بیرل 100 ڈالر سے نیچے آگئے، جو 9 ستمبر کے بعد ان کی کم ترین سطح تھی۔ مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 2 منٹ (1502 جی ایم ٹی) پر نومبر کے لیے برینٹ خام تیل کے سودے 3.48 ڈالر یا 3.35 فیصد کمی کے ساتھ 100.39 ڈالر فی بیرل پر رہے۔
اکتوبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ، جس کی مدت منگل کو ختم ہورہی ہے، 4.64 ڈالر یا 4.63 فیصد کمی کے ساتھ 95.66 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ نومبر کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کا معاہدہ 92.34 ڈالر فی بیرل پر رہا۔
اتوار کو ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کو نئی دھمکیاں دیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، جن کی اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنے کی توقع ہے۔
الجزیرہ نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں لڑائی جاری رہی۔ یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض کے علاوہ بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ وہ بحیرہ احمر کے ساحل کو سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر قبضہ باقی علاقوں سے منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
معاملے سے واقف تین ایرانی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے حملوں کے بعد بیجنگ سے مدد کی اپیل کیے جانے پر چین نے ایران سے حوثیوں کو قابو کرنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملوں کے باعث کمپنی نے ینبع کے راستے تیل کی کچھ ترسیلات روکنے کے بعد رواں ماہ اور آئندہ ماہ آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے 18 ستمبر کے ایک نوٹ میں کہا کہ ’’سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں خلل کے باوجود مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل حیران کن حد تک مضبوط ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں نے کہا کہ ’’سب سے نمایاں تبدیلی سعودی عرب کی جانب سے آئی ہے،‘‘ جبکہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ روز کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل اوسطاً 29 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو اگست میں صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا کہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امن مذاکرات میں پیش رفت کی امیدوں نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔
دریں اثنا، لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے چیئرمین مسعود سلیمان نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ ملک کے شرارہ آئل فیلڈ میں پیداوار جزوی طور پر کم ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔


Comments