حالیہ جاری ہونے والے اعداد و شمار اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں جو حکومت کے اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ معاشی استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 34 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ کم ہوا ہے جس کی عکاسی ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ہوتی ہے۔ یہ اضافہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں متوقع نہیں تھا۔
رپورٹس کے مطابق ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ جزوی طور پر جنگ کے باعث دیگر ممالک کے تارکین وطن کی خلیجی ریاستوں سے واپسی جبکہ پاکستانیوں کی خطے میں بدستور موجودگی اور ترسیلاتِ زر بھیجنے کے لیے سرکاری ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔
تاہم تنازع ختم ہونے کے بعد یہ صورتحال برقرار نہیں رہے گی۔ اس کے باوجود کشیدگی نہ صرف وسیع ہوئی ہے بلکہ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے صدر ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
مزید برآں، 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ کو تقویت ملی جبکہ اس پر شرح سود ملکی قرض گیری کی شرح سے کم رہی۔ اس میں 1.75 ارب ڈالر مالیت کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ شامل ہے جس کی کوپن شرح 7.5 فیصد ہے جبکہ 1.25 ارب ڈالر مالیت کے 10 سالہ بانڈ کی کوپن شرح 7.9 فیصد ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان بانڈز کی ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے گی جبکہ پاکستانی روپے کی قدر میں سالانہ اوسطاً 3 سے 4 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
جولائی تا اگست 2026 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی سالانہ بنیادوں پر 24 فیصد اضافہ ہوا جسے اگست میں آنے والی زیادہ سرمایہ کاری سے تقویت ملی۔ اگست کی ماہانہ اقتصادی صورتحال اور جائزہ رپورٹ میں جولائی 2025 کی ایف ڈی آئی 178.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 کی ایف ڈی آئی 223.6 ملین ڈالر بتائی گئی ہے، یعنی اس عرصے میں 45 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا اگست 2026 کی مجموعی رقم 495 ملین ڈالر رہی، جبکہ اگست 2026 میں یہ رقم 316.4 ملین ڈالر رہی، جو 2025 کی اسی مدت میں 398.6 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم، اس اعداد و شمار میں وزارت خزانہ کے 364.3 ملین ڈالر کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 34.3 ملین ڈالر کا فرق موجود ہے۔
اگرچہ اطمینان کی کوئی خاص گنجائش نہیں کیونکہ دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ اضافے کا یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔
بڑی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر 3.03 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 9.51 فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت کے لیے یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زیادہ شرح نمو اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ٹیکسٹائل شعبہ خود اس بہتری کو کھلے عام چیلنج کر رہا ہے۔ ٹیکسٹائل شعبے کا دعویٰ ہے کہ ان پٹ لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باعث 100 سے زائد یونٹس بند ہوچکے ہیں جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت کیے گئے انتظامی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس دعوے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق نجی شعبے کو قرضوں کا بہاؤ جولائی تا اگست 2025 میں منفی 232.1 ملین روپے سے بڑھ کر اسی عرصے میں 2026 میں منفی 393.4 ملین روپے ہوگیا۔
سب سے زیادہ شرح نمو آٹو موبائلز کے شعبے میں 57 فیصد رہی جس کے بعد گارمنٹس کا شعبہ 22 فیصد اضافے کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی معیشت کو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ روس، یوکرین تنازع کے باعث بھی سپلائی میں بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا ہے اور مستقبل قریب میں دونوں میں سے کسی بھی تنازع کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔
اس صورتحال میں آگے بڑھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ فوری نوعیت کے اقدامات، خصوصاً سبسڈیز میں توسیع کی جاتی رہے، کیونکہ اس سے مالی گنجائش مزید محدود ہوجاتی ہے۔ توانائی کے شعبے کے لیے ایسا منصوبہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر ایندھن کی قلت سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے۔ دستیاب ہونے کی صورت میں بھی ایندھن انتہائی بلند قیمت پر ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر اخراجات میں کمی لانا بھی ضروری ہے۔
اس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے یا موجودہ ٹیکسوں کا دائرہ کار وسیع کرنے جیسے روایتی ذرائع سے محصولات بڑھانے کی ضرورت بھی کم ہوجائے گی۔
عام شہری پہلے ہی تقریباً روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب تک اس صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے، بالخصوص پٹرول اور بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی طلب کم کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا جاتا، صورتحال مزید سنگین ہوتی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments