خصوصی پے اسکیل عہدے: حکومت نے سول سرونٹس کی تقرری پالیسی وسیع کردی
- وزارت خزانہ نے نظرثانی شدہ آفس میمورنڈم کے ذریعے پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے کنٹریکٹ عہدوں کو بھی ایم پی ایس ،پی پی ایس اور ایس پی پی ایس کے ساتھ شامل کردیا ہے
وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی پرکشش خصوصی پے اسکیل کے عہدوں پر تقرری سے متعلق پالیسی میں توسیع کردی ہے، جس کے تحت کنٹریکٹ پر تعیناتیوں کو بھی موجودہ فریم ورک میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ فریم ورک مینجمنٹ پوزیشن پے اسکیلز (ایم پی ایس)، پروجیکٹ پے اسکیلز (پی پی ایس) اور اسپیشل پروفیشنل پے اسکیلز (ایس پی پی ایس) پر لاگو ہوتا ہے۔
وزارت خزانہ نے نظرثانی شدہ آفس میمورنڈم کے ذریعے پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے کنٹریکٹ عہدوں کو بھی ایم پی ایس ،پی پی ایس اور ایس پی پی ایس کے ساتھ شامل کردیا ہے۔
اس اقدام کے تحت سرکاری کارپوریشنز، سرکاری ملکیتی اداروں، خودمختار اداروں اور دیگر متعلقہ تنظیموں میں کھلے مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے وفاقی سول سرونٹس، قواعد کے مطابق ڈیپوٹیشن کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ان عہدوں پر تعینات ہوسکیں گے۔
وزارت خزانہ کے آفس میمورنڈم کے مطابق یکم جولائی 2025 کے سابقہ آفس میمورنڈم میں جزوی ترمیم کے تحت مخصوص عہدوں کے لیے کھلے مسابقتی عمل کے ذریعے منتخب ہونے والے سول سرونٹ کو تقرری پر جوائن کرنے کی اجازت ہوگی اور اسے ڈیپوٹیشن پر تصور کیا جائے گا۔
افسر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی 3 دسمبر 1990 کی ڈیپوٹیشن پالیسی اور وقتاً فوقتاً کی جانے والی ترامیم کے تحت مقررہ شرائط و ضوابط کا پابند رہے گا، جب تک نظرثانی شدہ پالیسی میں کوئی مختلف شق موجود نہ ہو۔
وزارت خزانہ نے پالیسی کے دائرہ کار میں شامل اداروں کی تعریف بھی وسیع کردی ہے۔ نظرثانی شدہ شقوں کے تحت ’’حکومت کی ملکیت‘‘ والے اداروں میں وہ تنظیمیں بھی شامل ہوں گی جن میں حکومت کی اکثریتی ملکیت اور انتظامی حقوق حاصل ہوں۔
اس کے علاوہ حکومت کی تعریف میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو شامل کرلیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ نظرثانی شدہ شرائط و ضوابط ان وفاقی سول سرونٹس پر لاگو ہوں گے جو وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے تحت خصوصی پے اسکیل یا کنٹریکٹ عہدوں پر تعیناتی اختیار کریں گے۔ کنٹریکٹ عہدوں کو اسی پالیسی فریم ورک میں شامل کرکے وزارت خزانہ نے ایسے سرکاری افسران کی حیثیت سے متعلق ابہام دور کرنے کی کوشش کی ہے جو دورانِ ملازمت ایسی تقرریاں حاصل کرتے ہیں۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments