طویل لوڈشیڈنگ پر پاکستان بزنس فورم کا اظہارِ تشویش
- ملک کے کئی علاقوں میں صارفین کو اس وقت 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، احمد جواد
پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کی بجلی کی بندش سے کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں جبکہ بجلی کی غیر قابلِ اعتماد فراہمی کے باعث برآمد کنندگان کو بین الاقوامی آرڈرز کی بروقت تکمیل میں تاخیر کا سامنا ہے۔
فورم نے ملک کے بجلی کے شعبے کے انتظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کی نصب شدہ صلاحیت 49,651 میگاواٹ ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا پاکستانی بجلی صارفین نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آئی پی پیز کو 13,397 ارب روپے ادا کیے جن میں سے صرف 7,275 ارب روپے حقیقی بجلی کی پیداوار پر خرچ ہوئے۔
فورم کے مطابق باقی رقم کا ایک بڑا حصہ ایسے آئی پی پیز کو ادا کیا گیا جنہوں نے سرے سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی۔
پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا کہ ملک کے کئی علاقوں میں صارفین کو اس وقت 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان خطے میں سب سے زیادہ لاگت پر بجلی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
پی بی ایف نے مطالبہ کیا کہ پاور ڈویژن ملک میں بجلی کی موجودہ طلب، حقیقی پیداوار اور لوڈشیڈنگ کے ذریعے پورے کیے جانے والے شارٹ فال کے بارے میں واضح، سادہ اور قابلِ فہم انداز میں تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے۔
فورم نے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے مکمل شفافیت کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ منگلا اور تربیلا کے علاوہ اس وقت کون کون سے پاور پلانٹس بجلی پیدا کر رہے ہیں، ہر پلانٹ کتنی بجلی پیدا کر رہا ہے اور ملک میں مجموعی طور پر کتنے پاور پلانٹس کام کررہے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments